ہیوسٹن (پاکستان نیوز) ٹیکساس میں فورٹ بینڈ کاؤنٹی کے بھارتی نژاد جج کے پی جارج کو جیوری نے منی لانڈرنگ کے دو سنگین الزامات میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے فنڈز سے 46,500 امریکی ڈالر سے زائد رقم اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی اور اسے اپنے گھر کے اخراجات کے لیے استعمال کیا۔ بھارت کی ریاست کیرالہ میں پیدا ہونے والے کے پی جارج 1993 میں امریکہ منتقل ہوئے تھے اور وہ 2019 میں فورٹ بینڈ کاؤنٹی کے جج منتخب ہونے والے پہلے جنوبی ایشیائی شخص بنے تھے۔ اب انہیں اس جرم میں 2 سے 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد انہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا تھا، تاہم 20,000 ڈالر کے مچلکے جمع کروانے اور اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ استغاثہ کا موقف ہے کہ جج نے انتخابی مہم کی مالیاتی رپورٹس میں جھوٹ بولا اور عوامی پیسے کو گاڑیوں کی ادائیگیوں اور دیگر ذاتی کاموں کے لیے استعمال کیا۔ دوسری جانب ان کے وکلائ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جج نے اپنی مہم کو قرض دیا تھا اور قواعد کے مطابق صرف اپنی رقم واپس لی تھی۔ ٹیکساس کے قانون کے مطابق سزا سنانے کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے گا، تاہم اس وقت تک وہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔ سزا کی اگلی سماعت 16 جون کو ہوگی جس میں جج ان کی قید کی مدت کا تعین کریں گے۔














