فلسطین کی حمایت پرممدانی کی اہلیہ کیخلاف یہودی لابی برسر پیکار

0
5

تل ابیب (پاکستان نیوز)اسرائیلی حکومت کی جانب سے نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ راما دوجی پر ملک میں داخلے کی پابندی عائد کرنے کی سفارشات سامنے آئی ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر فلسطین کے حق میں کی جانے والی سرگرمیاں بتائی جا رہی ہیں۔ اسرائیل کی وزارت برائے امور تارکین وطن اور انسداد دشمنی یہود نے داخلی امور کی وزارت کو بھیجی گئی ایک باقاعدہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ راما دوجی نے اپنی تحریروں میں نسل کشی، غاصبانہ قبضے اور نسلی صفائی جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں جو ان پر پابندی عائد کرنے کے لیے کافی ہیں۔ واضح رہے کہ نیویارک سٹی کی پہلی خاتون اول راما دواجی کے فن پارے اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نئی بحث چھڑ گئی ہے جس کے باعث میئر زہران ممدانی کی انتظامیہ کو سخت سوالات کا سامنا ہے۔ حال ہی میں ایک آن لائن میگزین سلو فیکٹری میں راما دواجی کی بنائی ہوئی ایک تصویر شائع ہوئی جس میں ایک خاتون کے سیاہ و سفید نقش نگار دکھائے گئے تھے۔ یہ فن پارہ غزہ کے پناہ گزین کیمپوں کے بارے میں لکھے گئے ایک مضمون کے ساتھ شائع ہوا جس کی تدوین معروف فلسطینی نڑاد امریکی مصنفہ سوزان ابوالہویٰ نے کی ہے۔ سٹی ہال کے قریبی ذرائع کے مطابق انتظامیہ کے اہم ارکان کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ راما دواجی کو یہ کام تفویض کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ ان متنازع بیانات سے واقف تھے جو اس مجموعے کی مدیرہ نے سوشل میڈیا پر جاری کیے تھے۔ سوزان ابوالہویٰ نے ماضی میں اسرائیلی افواج کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی اور 7 اکتوبر 2023 کے حملے کو ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا تھا۔ اگرچہ راما دواجی نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے لیکن میئر زہران ممدانی نے مصنفہ کے بیانات کو ناقابل قبول اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی اہلیہ نے یہ کام ایک تیسرے فریق کے ذریعے حاصل کیا تھا اور وہ مصنفہ کے ذاتی خیالات سے واقف نہیں تھیں۔ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ کے علاقائی ڈائریکٹر سکاٹ رچمین کا کہنا ہے کہ میئر نے اگرچہ ان الفاظ کی مذمت کی ہے لیکن ابھی تک پہلی خاتون اول کا اپنا موقف سامنے نہیں آیا جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ دوسری جانب سوزان ابوالہویٰ نے میئر کے بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس تنازع کے بعد راما دواجی کی جانب سے ماضی میں پسند کی گئی چند ایسی پوسٹس بھی سامنے آئی ہیں جن میں فلسطین کی حمایت اور اسرائیل پر تنقید کی گئی تھی۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب میئر ممدانی نیویارک کی یہودی برادری کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب اس نئی صورتحال نے دونوں کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ میئر کی اہلیہ کے پیغامات ایک طویل عرصے سے اسرائیل مخالف بیانیے کی عکاسی کر رہے ہیں جن میں ایک ایسی تصویر بھی شامل ہے جس میں ملبے تلے دبی فلسطینی خاتون کو دکھایا گیا ہے اور سات اکتوبر کے واقعات کے حوالے سے پھیلائی گئی بعض خبروں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر امیچائی شکلی نے اس حوالے سے اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں کیے گئے یہ تبصرے کسی صورت قبول نہیں کیے جا سکتے۔ دوسری جانب راما دوجی جو کہ ایک مصورہ اور فلسطینیوں کے حقوق کی علمبردار ہیں انہوں نے تاحال اسرائیل کے دورے کی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی جبکہ ان کے شوہر زہران ممدانی نے بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران واضح کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہیں اور شاید ان کے لیے وہاں جانا ویسے ہی ممکن نہ ہو۔ یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک میں اسرائیل اور فلسطین تنازع کے تناظر میں پیش آنے والے کئی فوجداری مقدمات کے فیصلے بھی سنائے جا رہے ہیں۔ امریکی عدالتوں نے حال ہی میں ان افراد کو سزائیں سنائی ہیں جو یہودی شہریوں پر حملوں، ہراساں کرنے یا یرغمالیوں کی تصاویر پھاڑنے کے واقعات میں ملوث پائے گئے۔ ان مجرموں کو قید، جرمانے، سماجی خدمت اور عجائب گھروں کے تعلیمی دوروں جیسی سزائیں دی گئی ہیں تاکہ شہر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نفرت انگیز واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here