نیویارک (پاکستان نیوز)ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ حکیم جیفریز نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو ایک لاپرواہ اور غیر ضروری قدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی انتظامیہ پر عوامی فلاح و بہبود کے بجائے اربوں ڈالر بمباری پر خرچ کرنے کا الزام اور ملک کے اندر صحت کی سہولیات کو سستا بنانے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلط کردہ ایک ایسی جنگ قرار دیا ہے جس کا کوئی واضح مقصد یا اخلاقی جواز موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو انتظامیہ کے پاس عوام کے لیے سستی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک پیسہ بھی نہیں ہے لیکن دوسری جانب سمندر پار جنگوں میں بم گرانے کے لیے اربوں ڈالر بے دریغ بہائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے مقاصد مسلسل بدل رہے ہیں کیونکہ کبھی اسے حکومت کی تبدیلی کا نام دیا جاتا ہے تو کبھی ایران کی جوہری صلاحیتوں کو روکنے کا بہانہ بنایا جاتا ہے جبکہ خود صدر نے چند ماہ قبل ان سہولیات کی مکمل تباہی کا دعویٰ کیا تھا۔ حکیم جیفریز نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی عوام اس جنگ کی حقیقت کو سمجھ چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ عوامی سطح پر انتہائی ناپسندیدہ ہو چکی ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے جنگی اخراجات کے لیے 200 ارب ڈالر کے نئے بجٹ کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اسے ایک ناقابل قبول مطالبہ قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کی جماعت اس اضافی رقم کی منظوری کے خلاف متحد ہو کر مزاحمت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح سابقہ دور میں عوامی بجٹ میں کٹوتیاں کر کے غریب بچوں اور بزرگوں کی غذائی امداد روکی گئی اور طبی سہولیات لاکھوں افراد سے چھین لی گئیں وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق یہ رقم ملک کے اندر تعلیم، رہائش اور صحت کے شعبوں میں بہتری لانے کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی مگر اس کے بجائے اسے ایک ایسی جنگ میں جھونکا جا رہا ہے جس کا کوئی اختتامی منصوبہ موجود نہیں۔ حکیم جیفریز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آنے والے دنوں میں جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد دوبارہ پیش کریں گے تاکہ اس بے مقصد خون ریزی کو روکا جا سکے اور امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسے کو ان کی اپنی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے موجودہ حالات کو ایک قومی ڈراؤنا خواب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت وسط مدتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے ان پالیسیوں کا راستہ روکے گی جو عام شہری کی زندگی کو مشکل بنا رہی ہیں۔













