ڈاکٹر مقصود جعفری: کشمیر کا مؤثر ترین ترجمان!!!

0
16
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

ڈاکٹر مقصود جعفری متعدد کتب کے مصنف اور سات زبانوں پر عبور رکھنے والی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جن کا نام علمی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ علم و ادب اور قومی شعور کی ایک زندہ علامت کے طور پر ابھرے ہیں اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، ادیب، دانشور اور محقق کی حیثیت سے آپ کی خدمات کا اعتراف اعلیٰ علمی و ادبی حلقوں میں بھرپور انداز میں کیا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری کی تحریروں میں فکری گہرائی، علمی پختگی اور ادبی لطافت کا ایک ایسا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو قاری کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ ان کی نثر ہو یا تحقیق، ہر مقام پر ان کا اسلوب شگفتگی، مدلل گفتگو اور بصیرت کا آئینہ دار نظر آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ علم و ادب کے میدان میں ان کی کامیابیوں کے تذکرے ایک تسلسل کے ساتھ سنائی دیتے ہیں جو ان کی فکری عظمت کا واضح ثبوت ہیں۔کشمیر کاز کے حوالے سے وہ ایک متحرک سفیر کے طور پر جانے جاتے ہیں جنہوں نے قلم اور عمل دونوں کے ذریعے کشمیری عوام کا مقدمہ عالمی برادری کے سامنے پوری قوت سے رکھا ہے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری کی آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے خدمات تاریخ کا ایک روشن باب ہیں کیونکہ انہوں نے کشمیری عوام کے حقوق کے لیے نہ صرف عملی جدوجہد کی بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے بھی اس دیرینہ مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تصنیف شعلہ کشمیر اس حوالے سے خاصی اہمیت کی حامل ہے جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ادبی و فکری پیرائے میں ڈھال کر ایک نئی توانائی بخشی۔ بین الاقوامی کانفرنسوں میں ان کا جرات مندانہ اور مدلل انداز ان کی قومی وابستگی اور فکری بصیرت کا واضح اظہار کرتا ہے جس کی بدولت کشمیریوں کی آواز عالمی ضمیر تک پہنچانے میں بڑی مدد ملی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں جو بیک وقت علم اور وڑن کی دولت سے مالا مال ہوں اور موجودہ حالات میں ڈاکٹر مقصود جعفری ایک ایسی ہی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں جو صدر آزاد جموں و کشمیر کے عہدے کے لیے نہایت موزوں اور موثر انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر ان کی طویل جدوجہد، گرانقدر خدمات اور قربانیاں اس بات کی قوی دلیل ہیں کہ وہ اس منصب کی ذمہ داریاں نبھانے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔ اہل کشمیر، مفکرین اور سیاسی حلقوں میں ان کا نام ایک معتبر حوالے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ ان کی شخصیت اعتماد، بصیرت اور خدمت کے اوصاف سے مزین ہے جو انہیں دیگر معاصرین سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ ماضی میں وزیراعظم آزاد کشمیر کے مشیر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں اور اس خطے کے معاملات پر مکمل دسترس رکھتے ہیں۔ آج کے کڑے دور میں جب مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر ایک نئے بیانیے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر مقصود جعفری جیسے مدبر اور مفکر کی قیادت میں آزاد جموں و کشمیر ترقی، استحکام اور وقار کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here