نیویارک(پاکستان نیوز)نیویارک ٹائمز کی جانب سے بھارتی نڑاد امریکن کیخلاف بڑھتے ہوئے تعصب کو جنوبی ایشیائی کے وسیع عنوان تلے بیان کرنے پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی نژاد امریکی ماہر تعلیم انڈو وشواناتھن نے سوشل میڈیا پر نیویارک ٹائمز کی شہ سرخی کو نشانہ بناتے ہوئے اسے بھارتی شناخت کو دانستہ طور پر مٹانے کی کوشش قرار دیا ہے اور اس کا خوب واویلا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹ خاص طور پر بھارتیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت سے متعلق تھی، لیکن “جنوبی ایشیائی” کی اصطلاح استعمال کر کے اس مخصوص مسئلے کی شدت کو کم کر دیا گیا۔ ان کے نزدیک حالیہ تعصب کا تعلق بڑے پیمانے پر امیگریشن پالیسیوں اور Hـ1B ویزا سے جڑے مباحثوں سے ہے، جس کا بوجھ بنیادی طور پر بھارتیوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ “جنوبی ایشیائی” کا لیبل اکثر بھارتی اور ہندو شناخت کو چھپانے کے لیے “بطور ہتھیار” استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکی معاشرے میں بھارتیوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی کامیابی، خاص طور پر ٹیک سیکٹر میں، مقامی آبادی کے ایک حصے میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ اس بحث کے تناظر میں اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو امریکہ میں بھارتی کمیونٹی کی حیثیت نمایاں طور پر ابھری ہے۔ امریکہ میں تقریباً 4.8 ملین بھارتی نڑاد افراد مقیم ہیں جن میں سے 79% کے پاس کم از کم بیچلر ڈگری ہے، جبکہ امریکی اوسط 34% ہے۔ بھارتی نڑاد گھرانوں کی اوسط سالانہ آمدنی تقریباً $150,000 ہے، جو دیگر تمام نسلی گروہوں میں سب سے زیادہ ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق 70% بھارتی نڑاد امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ وشواناتھن کا کہنا ہے کہ بھارتیوں کی یہ نمایاں کامیابی اور سیاسی اثر و رسوخ ہی انہیں ایک مخصوص ہدف بناتا ہے، جسے “جنوبی ایشیائی” جیسی عمومی اصطلاح میں بیان کرنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔









