خلاء کی وسعتوں میں انسان کی جستجو اور رب کائنات کی عظمت!!!

0
17

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
علامہ اقبال کا یہ لازوال شعر جب ذہن و دل میں گونجتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات اپنی آخری حدوں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ ابھی بہت آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ انسان کی سوچ، اس کے خواب اور اس کی جستجو کو ایک ایسا راستہ دکھایا جاتا ہے جو وقت اور فضا کی قید سے ماورا ہے اور یہی وہ احساس ہے جو انسان کو ہمیشہ آگے بڑھنے، دریافت کرنے اور نامعلوم حقیقتوں کی تلاش پر آمادہ رکھتا ہے۔ آسمان کبھی محض ایک منظر نہیں رہا بلکہ یہ ہمیشہ ایک سوال، ایک دعوت اور ایک ایسی خاموش پکار رہا ہے جو انسان کو اپنی حدود سے باہر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔ چاند کی ٹھنڈی روشنی، ستاروں کی جھلملاہٹ اور خلاء کی بے انتہا وسعت نے مل کر انسانی وجود کے اندر ایک عجیب سی بے قراری پیدا کر رکھی ہے اور اسی جستجو نے مجھے بھی امریکہ کی ریاست ٹیکساس کی طرف کھینچ لیا۔ جب ہم ہیوسٹن پہنچے تو ہمارا رخ ناسا کے مشہور مرکز جانسن اسپیس سینٹر کی طرف ہوا جہاں داخل ہوتے ہی مجھے یوں لگا جیسے میں زمین کی دنیا سے نکل کر کسی اور ہی جہان میں آ گئی ہوں۔وہاں کے وسیع ہال میں راکٹوں کے حصے، خلائی لباس، خلائی کیپسول اور جدید مشینی ڈھانچے اس انداز میں رکھے گئے تھے جیسے وہ کسی اگلے عظیم مشن کے لیے تیار ہوں۔ ہال کی چھت کو آسمانی صورت دے دی گئی تھی جہاں چاند اور ستاروں کا منظر ایک حیرت انگیز حقیقت کا احساس دلا رہا تھا مگر یہ سب صرف مشینیں نہیں تھیں بلکہ انسان کے خوابوں، اس کی محنت اور مسلسل جدوجہد کی علامتیں تھیں۔ ایک گوشے میں خلا سے لی گئی زمین کی تصاویر آویزاں تھیں جہاں سیاہ خلا کے درمیان ایک روشن نقطے کی مانند نیلا سیارہ اور سفید بادلوں کی تہیں نظر آ رہی تھیں۔ اس منظر کو دیکھ کر دل بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھا اور یوں محسوس ہوا جیسے انسان اپنی تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود ایک بڑی حقیقت کے سامنے ہمیشہ کی طرح عاجز ہے۔ یہ کائنات محض مادی دریافت نہیں بلکہ اللہ کی تخلیق کا وہ عظیم شاہکار ہے جس کے ہر ذرے میں اس کی قدرت جھلکتی ہے اور انسان جب خلا میں پہنچا تو اس نے صرف فاصلے نہیں ناپے بلکہ اپنے خالق کی عظمت کے نئے دروازے بھی کھولے۔یہی خلائی سفر آج بھی پوری شد و مد کے ساتھ جاری ہے اور ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت انسان دوبارہ چاند کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حالیہ مشن میں چار خلاباز شامل تھے جو 1 اپریل کو روانہ ہوئے اور 10 دن کے بعد کامیابی سے زمین پر واپس آ گئے۔ اس مشن کا مقصد چاند کے گرد مدار میں جدید خلائی ٹیکنالوجی کو آزمانا اور مستقبل میں انسانوں کی چاند پر اترنے اور وہاں ممکنہ مستقل قیام کی تیاری کرنا تھا۔ یہ قدم اپولو مشنز کے بعد انسانی تاریخ میں ایک نئی پیش رفت اور مستقبل کی سمت ایک مضبوط بنیاد ہے۔ وہاں موجود ایک خلائی کیپسول کے سامنے کھڑے ہو کر جب میں نے اندر جھانکا تو ایک عجیب خاموشی نے دل کو گھیر لیا کیونکہ ایک تنہا انسان، محدود جگہ اور سامنے پھیلا ہوا لامحدود خلا دیکھ کر دل میں ایک ہی سوال ابھرا کہ آگے کیا ہے؟یہی سوال ہمیں 12 اپریل تک لے جاتا ہے جو انسان کی خلائی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہے اور اسے خلا کا عالمی دن کہا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان نے پہلی بار زمین کی حدود سے باہر قدم رکھا اور کائنات کی وسعتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ سفر صرف سائنس نہیں بلکہ انسانی شعور کی بیداری کا سنگ میل تھا جب 1969 میں اپولو 11 مون لینڈنگ کے ذریعے انسان نے چاند پر پہلا قدم رکھا تو یہ انسانی حوصلے کی معراج تھی۔ اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں آنکھوں نے اس منظر کو دیکھا اور ہر دل نے یہ محسوس کیا کہ اب ناممکن کچھ بھی نہیں رہا۔ آج یہی سفر ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں انسان دوبارہ چاند کی طرف بڑھ رہا ہے اور مستقبل میں مریخ جیسے سیاروں تک پہنچنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ سب انسان کی جستجو، علم اور حوصلے کی ایک نئی داستان ہے اور شاید یہی 12 اپریل کا اصل پیغام ہے کہ جب انسان آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچتا ہے تو اسے اپنی بلندی نہیں بلکہ اپنے خالق کی عظمت ہر طرف نظر آتی ہے۔ سبحان اللہ۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here