دنیا کی تاریخ اس وقت ایک نئی کروٹ لے رہی ہے اور قدیم عالمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ عرب بادشاہتیں زوال کی جانب مائل ہیں جبکہ عالمی سطح پر جاری جنگ و جدل نے تیل، گیس اور خوراک کا شدید بحران پیدا کر دیا ہے۔ سمندری راستوں کی بندش نے توانائی کے عالمی بحران کو جنم دیا ہے لیکن ان بدلتے حالات میں پاکستان مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے تجارتی و سمندری گیٹ وے کے طور پر ابھرا ہے۔ جسے بلیو اکانومی کہا جاتا ہے، اس کے تجارتی دروازے اب پاکستان پر کھل چکے ہیں۔ خلیجی ممالک میں توانائی اور خوراک کے خدشات کے پیش نظر کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ پاکستان اس لحاظ سے مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے خطے میں امن کے لیے صلح جوئی کا بیڑا اٹھایا جس کی بدولت وہ خطے کا کلیدی کھلاڑی اور عالمی افق پر ایک بڑے رہنما کے طور پر ابھرا ہے۔
سعودی عرب اور ایران، قطر اور ایران، اور اب امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک عظیم سفارتی کامیابی ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہی مذاکرات کی بدولت پاک ایران تجارت کو قانونی حیثیت ملی اور گیس پائپ لائن کے منصوبے میں پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے گوادر کو عالمی تجارت میں خصوصی اہمیت حاصل ہو چکی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کا اتحادی بننا مہنگا پڑ رہا ہے اور اس کا تجارتی انڈیکس تیس فیصد تک گر گیا ہے۔ کئی دہائیوں سے خطے کا تجارتی مرکز رہنے والا متحدہ عرب امارات اب معاشی ہچکولے لے رہا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی کے اسٹاک ایکسچینج کئی روز بند رہنے کی وجہ سے سرمایہ کار وہاں سے نکل کر پاکستان، ہانگ کانگ اور سنگاپور کا رخ کر رہے ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ جو گزشتہ دس سال سے آپریشنل ہونے کی منتظر تھی، موجودہ جنگی صورتحال میں اپنی اہمیت منوا چکی ہے۔ پاکستان اور چین کے اشتراک سے بننے والا سی پیک اب ایک ناگزیر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ دس سال اس منصوبے میں رکاوٹیں ڈالیں اور بھارت، افغانستان اور امارات پر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے۔ یہ تاثر عام رہا کہ امارات اپنی بندرگاہوں کے تحفظ کے لیے سی پیک اور گوادر کی مخالفت میں مختلف گروہوں کی مالی معاونت کرتا رہا ہے تاہم پاکستان نے ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی اور گوادر کو مکمل فعال کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے گوادر کو فعال ہوتے دیکھ کر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں موجود اپنے قرضے کی واپسی کا مطالبہ کر دیا تاکہ معاشی نقصان پہنچایا جا سکے لیکن پاکستان نے فوری ادائیگی کا فیصلہ کر کے اس معاشی دباؤ کو ناکام بنا دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں غیر متوقع سرد مہری آئی ہے اور پاکستانیوں کے لیے ویزوں کا اجراء بند کر دیا گیا ہے۔ دبئی سے گوادر منتقل ہونے والے تجارتی راستوں نے پاکستانی معیشت کے لیے خوشحالی کا نیا دروازہ کھول دیا ہے کیونکہ اب جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرے گا اسے گوادر کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہو گا۔ گوادر اب ایک معاشی مرکز اور توانائی کی راہداری بن چکا ہے جو حجم میں دبئی اور عمان کی بندرگاہوں سے کہیں بڑا ہے۔
امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے جہاز روانہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس پر ایران نے سخت جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ چین نے بھی امریکہ کو مداخلت سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اگرچہ فی الوقت پندرہ دن کے لیے جنگ روک دی گئی ہے، تاہم جنگ کے بادل اب بھی منڈلا رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے اور پاکستانی دستے وہاں پہنچ چکے ہیں۔ عالمی منظرنامے پر چین ایک فاتح کے طور پر ابھرا ہے جس کی ٹیکنالوجی اور سفارت کاری نے اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ چین نے اس تنازع میں براہ راست شامل ہوئے بغیر معاشی کامیابی حاصل کی ہے۔ اب ہرمز سے گزرنے والے جہاز ایران کو چینی کرنسی میں ادائیگی کریں گے، جس سے ڈالر کی عالمی بالادستی کو دھچکا لگا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنائے اور تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔












