امریکہ کا اصفہان سے یورینیم چوری کرنیکا خفیہ منصوبہ بے نقاب

0
8

نیویارک(پاکستان نیوز)ایٹمی تنصیبات سے افزودہ یورینیم چوری کرنے کا منصوبہ پائلٹ کی تلاش کے نام نہاد آپریشن کے پیچھے چھپایا گیا تھا۔ایران کے شہر اصفہان میں امریکی فوج کے ایک انتہائی حساس اور خفیہ مشن کی ناکامی کی تفصیلات نے عالمی سطح پر سنسنی پھیلا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کے پس منظر میں ایک باقاعدہ عسکری منصوبہ تیار کیا گیا تھا جس کا مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو نقصان پہنچانا اور وہاں سے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو غیر قانونی طور پر نکالنا تھا۔ اس پورے ڈرامے کا آغاز 3 اپریل 2026 کو اس وقت ہوا جب ایران کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے زاگرس میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اگرچہ واشنگٹن نے اس واقعے کو ایک فنی حادثہ قرار دیتے ہوئے اپنے پائلٹ کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک دھوکہ تھا تاکہ ایرانی حکام اور عالمی میڈیا کی توجہ اصل ہدف سے ہٹائی جا سکے۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پائلٹ کی جان بچانے کے نام پر شروع کیے گئے اس آپریشن میں غیر معمولی طور پر اعلیٰ عہدے کے فوجی افسران اور جدید ترین مال بردار طیارے شامل کیے گئے تھے جو عام طور پر ریسکیو مشنز کا حصہ نہیں ہوتے۔ اس مشن کا اصل ہدف اصفہان کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات میں موجود 400 کلوگرام کے قریب 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اور ہیکسا فلورائڈ کے کنٹینرز پر قبضہ کر کے انہیں خفیہ طور پر ایران سے باہر منتقل کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے اصفہان کے قریب ایک عارضی فوجی اڈہ بھی قائم کیا گیا تھا جہاں 100 سے زائد تربیت یافتہ کمانڈوز حملے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ تاہم ایرانی انٹیلی جنس اور پاسداران انقلاب نے اپنی جدید تکنیکی مہارت اور مقامی سطح پر موجود مخبری کے نظام کی بدولت اس سازش کو وقت سے پہلے بھانپ لیا۔

ایرانی یونٹس نے الیکٹرانک سگنلز کے ذریعے امریکی کمانڈوز کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور اس سے پہلے کہ وہ اپنی کارروائی کا آغاز کر پاتے ایرانی دستوں نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا۔ اس اچانک جوابی کارروائی نے امریکی منصوبہ سازوں کو ششدر کر دیا اور انہیں اپنا سامان وہیں چھوڑ کر پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ اس واقعے کا موازنہ 1980 کے اس ناکام امریکی آپریشن سے کیا جا رہا ہے جو صحرائے طبس میں ریت کے طوفان کی نذر ہو گیا تھا۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ نے پائلٹ کی باحفاظت واپسی کی خبر کو اپنی اس بڑی عسکری اور انٹیلی جنس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اصفہان میں پیش آنے والا یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ایران کا فضائی اور زمینی دفاعی نظام کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح مستعد ہے اور واشنگٹن کی یہ مہم جوئی اس کی ساکھ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھری ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here