چین اور روس نے اقوام متحدہ میں آبنائے ہرمز کھولنے کی قرارداد ویٹوکر دی

0
10

نیویارک (پاکستان نیوز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے قریبی اتحادیوں چین اور روس نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور وہاں جہاز رانی کی بحالی تھا۔ بحرین کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں دنیا بھر کے ممالک کو اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کی بحالی اور آبی گزرگاہ کے تحفظ کیلئے اپنے دفاعی اقدامات کو مربوط کریں جس میں بحری جہازوں کو حفاظتی دستوں کی نگرانی میں گزارنا بھی شامل تھا۔ واضح رہے کہ اس قرارداد کا متن ابتدائی مسودے کے مقابلے میں کافی نرم رکھا گیا تھا کیونکہ پہلے مسودے میں ریاستوں کو اسٹریٹ میں محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔ سلامتی کونسل میں رائے شماری کے دوران گیارہ ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ دو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور دو مستقل ارکان نے اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ امریکی سفیر مائیکل والٹز نے چین اور روس کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک ایسی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں جو خلیجی خطے کو ڈرا دھمکا کر جھکانا چاہتی ہے۔ دوسری جانب روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے اپنے موقف میں کہا کہ اس طرح کی قرارداد بین الاقوامی قانون کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرے گی اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی۔ اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے قرارداد کے ناکام ہونے کے باوجود اس بات پر زور دیا کہ ممالک کی بڑی اکثریت کی حمایت اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ دنیا بین الاقوامی تجارتی راستوں کو لاحق خطرات کے خلاف متحد ہے۔ ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے اس قرارداد کو یکطرفہ قرار دے کر مسترد کر دیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ تہران اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتا ہے۔ اس ویٹو کے بعد خلیج کی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ عالمی برادری اس اہم ترین تجارتی گزرگاہ کی بندش پر شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here