تہران (پاکستان نیوز)ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران اور عمان نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد فنڈز اکٹھا کرنا ہے جنہیں جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور بحالی کے کاموں کے لیے مختص کیا جائے گا۔ اس حوالے سے عمان کی وزارت خارجہ سے بھی موقف طلب کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے اور بحری نقل و حمل کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب صرف 5 فیصد بحری ٹریفک اس راستے سے گزر رہی ہے۔ اگرچہ زیادہ تر تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں، تاہم کچھ ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان اور بھارت نے ایران کے ساتھ خصوصی مذاکرات کیے ہیں تاکہ ان کے جھنڈے والے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق ایران مبینہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز سے 20 لاکھ ڈالر تک فیس طلب کر رہا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا کسی جہاز ران کمپنی یا آپریٹر نے باقاعدہ طور پر اتنی خطیر رقم ادا کی ہے یا نہیں۔ یہ سٹریٹجک آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس پر فیس کا نفاذ عالمی تجارتی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔













