آرٹیمس 2 کے خلا بازوں نے زمین سے ریکارڈ فاصلے پر پہنچ کرنئی تاریخ رقم کر دی

0
11

نیویارک (پاکستان نیوز)آرٹیمس 2 مشن پر سوار چار خلا بازوں نے زمین سے انسان کے اب تک کے طویل ترین فاصلے پر سفر کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر کے جدید خلائی تحقیق میں ایک سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ پیر کے روز دوپہر بارہ بج کر چھپن منٹ پر اس عملے نے اپالو 13 کا پرانا ریکارڈ توڑ دیا اور زمین سے 248,655 میل کی دوری پر پہنچ گئے۔ توقع ہے کہ ان کا خلائی جہاز اورین واپسی کا سفر شروع کرنے سے پہلے یہ فاصلہ 252,756 میل تک بڑھا دے گا۔ مشن کے چھٹے دن ناسا کے خلا باز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈین خلائی ایجنسی کے جیریمی ہینسن نے زمین سے دوری کے دوران چاند کی دستاویزی فلم بندی کا عمل جاری رکھا۔ ناسا کی قائم مقام ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر لوری گلیز نے اس کامیابی پر کہا کہ ہم ناسا میں ناممکن کو حاصل کرنے اور بلندیوں تک پہنچنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لگن محض ریکارڈ توڑنے کے لیے نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کی امید کو جلا بخشنے کے لیے ہے۔ یہ مشن یکم اپریل کو کینیڈی اسپیس سینٹر سے ناسا کے اسپیس لانچ سسٹم کے ذریعے روانہ ہوا تھا۔ زمین کے مدار سے نکلنے کے لیے مختلف مراحل مکمل کرنے کے بعد جہاز نے چاند کی طرف اپنا رخ کیا تھا۔ اس تاریخی لمحے کے بعد ہینسن نے اپنے جہاز انٹیگریٹی کے کیبن سے زمین پر پیغام بھیجا کہ وہ انسانوں کے اب تک کے طے کردہ طویل ترین فاصلے کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے آنے والی نسلوں کو چیلنج کیا کہ وہ اس ریکارڈ کو زیادہ عرصے تک قائم نہ رہنے دیں اور مزید آگے بڑھیں۔ مشن کے دوران عملے نے دو چاند کے گڑھوں کے نام تجویز کیے ہیں، جن میں سے ایک کا نام اپنے خلائی جہاز کی مناسبت سے انٹیگریٹی اور دوسرا وائز مین کی مرحوم اہلیہ کیرول کے نام پر رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ نام منظوری کے لیے بین الاقوامی فلکیاتی یونین کو بھیجے جائیں گے۔ جیسے ہی یہ خلائی جہاز چاند کے قریب پہنچے گا، یہ اس کی سطح سے تقریباً 4,067 میل کے فاصلے سے گزرے گا۔ یہ خلا باز کئی دہائیوں بعد چاند کے اس حصے کو براہ راست دیکھنے والے پہلے انسان بن جائیں گے جو زمین سے نظر نہیں آتا۔ چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے تقریباً 40 منٹ تک زمین سے ان کا رابطہ منقطع رہے گا کیونکہ چاند مواصلاتی لہروں کی راہ میں حائل ہو جائے گا۔ رابطہ بحال ہونے کے بعد جانسن اسپیس سینٹر میں موجود مشن کنٹرول دوبارہ نگرانی شروع کر دے گا۔ خلا باز جہاز پر موجود کیمروں سے چاند کی سطح کی اعلیٰ معیار کی تصاویر بھی لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کے مشنز اور چاند پر انسانوں کی طویل مدتی رہائش کے منصوبوں میں مدد مل سکے۔ مشن کا آدھا وقت گزرنے کے بعد آرٹیمس 2 کی 10 اپریل کو سان ڈیاگو کے ساحل پر سمندر میں واپسی شیڈول ہے۔ بحالی کی ٹیمیں خلا بازوں کو نکال کر جہاز پر منتقل کریں گی جس کے بعد وہ طبی معائنے کے لیے ہیوسٹن روانہ ہوں گے۔ آرٹیمس پروگرام کا اصل مقصد انسانوں کو دوبارہ چاند پر اتارنا اور مریخ تک انسانی رسائی کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here