نسلی تفریق کے خاتمے کیلئے نیویارک میں مساوات کا تاریخی منصوبہ

0
9

نیویارک (پاکستان نیوز)میئر زہران ممدانی کی انتظامیہ نے شہر کا پہلا باضابطہ نسلی مساوات کا منصوبہ جاری کر دیا ہے جس کا مقصد مقامی اداروں کے ذریعے نسلی تفریق کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہر کے سرکاری عہدوں پر تنخواہوں میں برابری، عملے کے لیے نسل پرستی کیخلاف تربیت اور مختلف آبادیوں کے متعلق ڈیٹا جمع کرنے کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ بروکلین کے میڈگر ایورز کالج میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میئر ممدانی نے کہا کہ جن علاقوں کو کرایوں اور بچوں کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہی علاقے برسوں سے ادارہ جاتی غفلت اور نسل پرستی کا شکار رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیویارک کی سستی رہائش کا بحران اور نسلی عدم مساوات کی تاریخ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ منصوبہ شہر کے چارٹر کے مطابق لازمی تھا جسے 2022 میں ووٹرز نے بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔ اس سے قبل سابق میئر ایرک ایڈمز کے دور میں اس کا مسودہ تیار ہو چکا تھا لیکن اسے کبھی منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ رواں سال کے آغاز میں ممدانی نے اپنے پہلے 100 دنوں میں اسے شائع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ وفاقی سطح پر نسل پرستی مخالف کوششوں کو روک رہے ہیں اور کئی نجی کمپنیاں بھی اپنے تنوع اور شمولیت کے پروگراموں سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔

ممدانی نے نیویارک میں زندگی گزارنے کے حقیقی اخراجات کے حوالے سے بھی ایک رپورٹ پیش کی جس کے مطابق 62 فیصد نیویارک باسی یعنی 50 لاکھ سے زائد افراد کی آمدن شہر میں رہنے کے لیے درکار رقم سے کم ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچوں والے خاندان کے لیے زندگی گزارنے کا حقیقی خرچ 159000 ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ حقیقت میں مقامی خاندانوں کی اوسط آمدن صرف 124000 ڈالر ہے۔ وفاق کے غربت کے پیمانوں کے بجائے اب اس نئے پیمانے کو پالیسی سازی کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ معاشی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

نسلی مساوات کے اس منصوبے کے تحت محکمہ ٹرانسپورٹ جرمانے وصول کرنے کے نظام میں نسلی فرق کا جائزہ لے گا جبکہ محکمہ صفائی تمام محلوں میں اپنی خدمات کا ڈیٹا جمع کرے گا تاکہ پسماندہ علاقوں کے مسائل بہتر طور پر حل کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ عمر رسیدہ افراد کے محکمے نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2028 تک ان کے مراکز میں خدمات حاصل کرنے والے افراد کی نسل اور قومیت وہاں کی مقامی آبادی کے تناسب کے عین مطابق ہو۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کے اداروں کے اندر موجود ڈھانچہ جاتی نسل پرستی کا مقابلہ کرنا اور اسے ختم کرنے کی جانب قدم بڑھانا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here