سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبریں اور سرخیاں دیکھ کر انسان اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کس بات کو سچ مانے اور کسے جھوٹ۔ اگر کوئی پاکستان یا ہندوستان سے آ کر ہمیں ان حالات سے آگاہ کرے تو شاید ہمیں یقین آ جائے لیکن بہت سے قارئین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی پچاس ہزار ڈالر اور کلو بھر سونا لے کر کینیڈا کی سیر کو نکل جائے۔ اگر یہ دولت چھپا کر رکھی گئی ہے تو سب جانتے ہیں کہ مکان یا دکان کی خریداری کے وقت قانونی طور پر اس کی وضاحت کرنی پڑتی ہے۔ یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ کوئی شخص وکیل یا اکاؤنٹنٹ کی معاونت کے بغیر ایسی بڑی لین دین کر لے۔ ایک صاحب نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا کہ کینیڈا سے واپسی پر ان کے ڈالر اور سونا غائب تھے اور یہ واقعہ ویلی اسٹریم میں پیش آیا جس سے یہ تاثر ملا کہ وہاں چوری چکاری کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب جب وہاں کی مقامی مساجد میں آنے والوں سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اسے محض ایک مذاق اور جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اس صورتحال کا لب لباب یہ ہے کہ ایسی خبروں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے کیونکہ ویلی اسٹریم میں دیگر مسائل تو ہو سکتے ہیں مگر ڈکیتی کی ایسی وارداتیں بعید از قیاس ہیں۔ اگر بالفرض ایسا ہوا بھی ہے تو یہ کسی قریبی واقف کار کا کام ہو سکتا ہے اور دونوں ہی صورتوں میں یہ ہمدردی کے لائق نہیں بلکہ اگر یہ بیمہ کمپنی سے رقم بٹورنے کا کوئی حربہ ہے تو وہ بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ لہٰذا ایسی بے سروپا باتیں پھیلانے والوں کو چاہیے کہ وہ کچھ بھی لکھنے سے قبل حقیقت حال کا ادراک کریں۔
آج کل سوشل میڈیا جھوٹ اور لغو مواد کا مجموعہ بن چکا ہے جہاں فیس بک کے مقابلے میں ٹک ٹاک پر زیادہ ہی خرافات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ وہاں ایسے اشتہارات کی بھرمار ہے جن کا مقصد محض صارفین کی نجی معلومات حاصل کرنا ہے۔ مثال کے طور پر دکان کی چھت مفت لگوانے یا ہفتے میں پچاس میل گاڑی چلانے کی صورت میں محض انیس ڈالر ماہانہ پر کار کا بیمہ کروانے جیسے پرکشش مگر مشکوک دعوے کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح کھڑکیوں اور دروازوں کی مفت فراہمی یا کینسر جیسے موذی مرض کے متعلق گمراہ کن معلومات اور اخلاق بافتہ ویڈیوز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ ان سب بیہودہ سرگرمیوں پر کوئی روک تھام نہیں ہے اور اگر صارف کو یہ مواد پسند نہ آئے تو اسے انتظامیہ کو مطلع کرنا چاہیے۔ بعض اوقات تو ایسی مضحکہ خیز تحریریں سامنے آتی ہیں کہ انسان چکرا کر رہ جاتا ہے جیسے صدقہ و خیرات کے متعلق پھیلائی گئی حالیہ غلط فہمیاں۔سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنماؤں کے بیانات اکثر فہم سے بالاتر ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت میں ایک وفد جے ڈی وینس کی سرکردگی میں پاکستان پہنچا تاکہ ایران سے متعلق مالی معاملات پر بات چیت کی جا سکے مگر اس سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونے کی امید نظر نہیں آتی۔ اسی دوران امریکی قیادت کے فیصلوں میں تضادات کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور نیویارک میں پٹرول کی قیمتیں ایک ماہ کے اندر بڑھ کر چار ڈالر تیس سینٹ تک پہنچ چکی ہیں جو عام شہری کے ساتھ ایک کھلا فراڈ ہے۔ عالمی سطح پر کینیڈا، برطانیہ، اسپین اور جرمنی جیسے ممالک بھی ان بدلتی ہوئی پالیسیوں کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور لبنان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے جہاں اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک چودہ سو اکسٹھ افراد جان بحق، چوالیس سو سے زائد زخمی اور بارہ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ لبنان کے پندرہ فیصد حصے پر اسرائیلی قبضہ ایک نئے انسانی المیے کو جنم دے رہا ہے جسے روکنے کے لیے ناروے جیسے ممالک نے اسرائیل کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی تجویز دی ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کی دو سو چالیس سالہ تاریخ میں امن کا دورانیہ صرف سولہ سال رہا ہے اور اس کی خارجہ پالیسیاں عراق، افغانستان اور لیبیا جیسے ممالک میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہیں۔ دنیا بھر کے اسی ملکوں میں قائم سات سو سے زائد فوجی اڈے امن و امان کے دعوے تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر جنوبی امریکہ سے لے کر افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ تک تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ اس وقت خود امریکی عوام بھی ان کارپوریٹ پالیسیوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں پچیس فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے اپنے ہی ملازمین کو صحت کی سہولیات فراہم نہ کرنا اور بڑے اداروں کے سربراہان کا عوامی فلاح کے بجائے ذاتی منافع کو ترجیح دینا ریاست کے زوال کی واضح نشانی ہے۔ موجودہ قیادت ان تمام مسائل سے باخبر ہونے کے باوجود محض سیاسی فائلوں تک محدود نظر آتی ہے جبکہ عام شہری مثبت تبدیلی کا منتظر ہے۔












