گذشتہ ہفتے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا جو پوری دنیا کے لیے باعث سکون ثابت ہوا۔ اس اہم پیش رفت میں پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے جو بظاہر ایک کٹھن مرحلہ دکھائی دیتا تھا کہ معاشی مسائل اور دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ملک ماضی اور حال کی دو بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان صلح کی راہ ہموار کر سکے گا۔ اس تاریخی کامیابی کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر جاتا ہے جنہوں نے یورپ، ایشیا اور عرب دنیا کے دیگر ممالک پر فوقیت دیتے ہوئے اپنے اتحادی ملک پاکستان کو اس عزت سے نوازا ہے جو بلاشبہ ایک قابلِ تعریف اقدام ہے۔ آج جنیوا یا قطر جیسے روایتی مراکز کے بجائے مذاکرات کا مرکز پاکستان بنا ہوا ہے تاہم پاکستان کا یہ فعال کردار بعض داخلی اور خارجی حلقوں کو ناگوار گزرا ہے۔ خاص طور پر بھارت میں اس صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ بھارتی حکمرانوں کا خیال تھا کہ یہ مقام بھارت کو حاصل ہونا چاہیے تھا مگر نریندر مودی کی موجودہ پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔بھارت کے علاوہ پاکستان کے اندر بھی بعض عناصر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کے ذریعے اس سفارتی کامیابی کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔ مختلف منفی پروپیگنڈے کیے گئے جن میں کبھی یہ کہا گیا کہ فریقین پاکستان مذاکرات کے لیے نہیں آ رہے تو کبھی اسے چین کی کوشش قرار دیا گیا اور بعض نے تو اسے نورا کشتی سے تشبیہ دی۔ یہ عناصر اس حقیقت سے چشم پوشی کر رہے ہیں کہ پاکستان نے 1969 میں بھی امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ درحقیقت ریاست اور سیاست کی باریکیوں سے نابلد یہ گروہ ماضی میں مختلف عسکری قیادت کی سرپرستی میں پروان چڑھا ہے جنہیں جنرل گل حمید، جنرل پاشا، جنرل مشرف، جنرل ظہیر الاسلام، جنرل راحیل شریف، جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید جیسی شخصیات کی حمایت حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں اقتدار کے ایوانوں سے دوری اختیار کرنی پڑی تو وہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے اور سازشوں کے زیرِ اثر بھارت اور اسرائیل نواز بیانیے کو تقویت دینے لگے تاکہ ملک میں مستقل بے چینی کی فضا برقرار رہے۔موجودہ صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ واحد امریکی صدر ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے پاکستان کی ایک سویلین حکومت کے ساتھ تعلقات کو اس سطح پر استوار کیا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ماضی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر امریکی صدور نے پاکستان میں غیر آئینی طور پر قابض فوجی حکمرانوں کے ادوار میں ہی دورے کیے۔ صدر آئزن ہاور، صدر نکسن، صدر جانسن، وزیر خارجہ ہنری کسنجر، نائب صدر جارج بش اور صدر کلنٹن نے ہمیشہ آمریت کو ترجیح دی۔ اگرچہ نائب صدر جو بائیڈن نے 2011 میں صدر زرداری کے دور میں دورہ کیا تھا مگر اس کا مقصد محض افغانستان کی صورتحال تک محدود تھا۔ اس کے برعکس اب امریکی صدر نے ایک منتخب سویلین حکومت کے دور میں ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان بھیجا ہے۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے انتہائی خوش آئند ہے کہ یہ پاکستان میں ایک مستحکم سویلین سیٹ اپ کی بنیاد بن سکتی ہے جس کے لیے عوام کئی دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔
٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)










