اکرم سہیل آزاد کشمیر میں ایک اعلیٰ عہدے دار رہے ہیں لیکن بیوروکریسی کے مخصوص مزاج نے انہیں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے دور رکھا کیونکہ وہ ایک صاحبِ بصیرت اور بیدار مغز انسان ہیں۔ فیض احمد فیض نے اس طبقے کے رویوں کے متعلق کہا تھا کہ:
سرِ خسرو سے نازِ کجکلاہی چھن بھی جاتا ہے
کلاہِ خسروئی سے بْوئے سلطانی نہیں جاتی
اکرم سہیل ایک درویش صفت انسان ہیں جن کا مرتبہ فیض کے بیان کردہ معیار سے بھی بلند ہے۔ وہ علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر نظر آتے ہیں کہ:
کہاں سے تْو نے اے اقبال سیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا بادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا
کچھ برس قبل ان کا شعری مجموعہ نئے اجالے ہیں خواب میرے منظرِ عام پر آیا جس میں ان کے کلام پر میری رائے بھی شامل تھی۔ ان کے کالموں پر مشتمل مجموعہ مکالمات فہم و ادراک کا بہترین نمونہ ہے جس کے بارے میں مَیں نے لکھا تھا کہ اکرم سہیل کے افکار و نظریات دانائی کا شاہکار ہیں۔ اسی طرح شعورِ عصر بھی ان کی ایک اہم نثری کاوش ہے جو معنی خیزی سے لبریز ہے۔ وہ عالمی سطح کے ایک سنجیدہ دانشور ہیں جن کی تحریریں بے باکی اور سچائی پر مبنی ہیں۔ ان کی ادبی و علمی خدمات کا مکمل ادراک کرنے کے لیے رانا توفیق صدیقی کی تصنیف اکرم سہیل شخصیت و شاعری کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ مسئلہ کشمیر سے ان کی گہری وابستگی ان کی شاعری اور نثر میں جا بجا نظر آتی ہے جہاں وہ کشمیری عوام کے دکھوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ بحیثیت کالم نگار ان کے قلم کی جولانیاں ریگزاروں میں پھول کھلاتی ہیں اور ان کے قلم کی آواز علامہ اقبال کے اس شعر کی صورت نغمہ سرا ہے کہ:
چون چراغِ لالہ سوزم در خیابانِ چمن
ای جوانانِ عجم، جانِ من و جانِ شما
ان کی زیرِ طبع کتاب اکیسویں صدی کی کہانیاں دراصل ہر عہد کی کہانیوں کا تسلسل ہیں۔ جس طرح گلستانِ سعدی کی حکایات اپنی فصاحت و بلاغت اور حقائق نگاری کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں، اسی طرح اس کتاب میں شامل تین سو چھپن کہانیاں بھی روایتی داستانوں کے بجائے زندگی کے تلخ و شیریں واقعات کا طنزیہ و مزاحیہ انداز میں تجزیہ کرتی ہیں۔ یہ تحریریں سماجی و سیاسی پہلوؤں کو بے نقاب کرتی ہیں اور مصنف جاگیرداری، سرمایہ داری اور استعماری قوتوں کے خلاف ایک بے نیام تلوار کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ ان کہانیوں میں سیاسی اجارہ داری، مذہبی انتہا پسندی، معاشی استحصال اور حکومتی جبر پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ انہوں نے منافقت اور خوشامد کے کلچر کی بھرپور نفی کی ہے۔ تمام واقعات کو نہایت سادہ اور سلیس زبان میں پیش کیا گیا ہے جو کہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ یہ کتاب اپنی فکری گہرائی کے باعث اکیسویں صدی کی بہترین تخلیقات میں شامل ہونے کے قابل ہے۔ ان کہانیوں کی فنی مہارت زندگی کی تلخیوں کو شیریں انداز میں پیش کرتی ہے جو حافظ شیرازی کے اس شعر کی ترجمان معلوم ہوتی ہے کہ:
مادر پیالہ عکسِ رْخِ یار دیدہ ایم
اے بے خبر ز لذتِ شربِ مدامِ ما
٭٭٭











