رشتے، روایات اور بدلتا ہوا خاندانی نظام!!!

0
14

انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے جس حصار میں خود کو محفوظ پاتا ہے، وہ خاندان ہوتا ہے۔ یہی وہ دائرہ ہے جہاں محبت بے غرض، تعلق بے حساب اور قربت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ درحقیقت خاندان محض چند رشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا مربوط نظام ہے جو انسان کو شناخت، تحفظ اور وابستگی عطا کرتا ہے۔ جب بھی رشتوں اور روایات کا ذکر ہو تو میرے ذہن میں اپنے گھر کا وہ نقش ابھرتا ہے جس کی بنیاد میرے والد مرحوم سید عبدالجبار نے رکھی تھی۔ انہوں نے خاندانی روایات کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ انہیں عملی زندگی میں جی کر بھی دکھایا۔ وہ دوسروں کے کام آنے کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے تھے، چنانچہ کوئی ضرورت مند ہو یا کسی کو سہارے کی تلاش ہو، وہ ہمیشہ مدد کے لیے پیش پیش رہتے۔ ان کے نزدیک انسانیت سب سے بڑا رشتہ تھی اور اسی سوچ کے تحت تعلیم کے معاملے میں بھی ان کا کردار قابلِ تقلید رہا۔ انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے بڑے بھائی کے بچوں، گھریلو ملازمین اور اپنے دفتر کے عملے بشمول ڈرائیور، مالی، چوکیدار اور نائب قاصدوں کے بچوں کی تعلیم کا بیڑا بھی اٹھایا۔ وہ خود انہیں اسکولوں میں داخل کرواتے اور ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرتے تھے، جس کا نتیجہ ہے کہ آج وہی بچے تعلیم یافتہ ہو کر معاشرے کا باوقار حصہ بن چکے ہیں اور انہیں دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں۔
والد کے ان نقشِ قدم پر چلتے ہوئے میری والدہ نے بھی ان روایات کو محبت اور خلوص سے جلا بخشی۔ پڑوس ہو یا رشتہ دار، اگر کسی کے گھر میں بچہ بیمار ہوتا تو وہ رات بھر جاگ کر تیمارداری کرتیں، اہل خانہ کو حوصلہ دیتیں اور ہر ممکن مدد فراہم کرتیں۔ اسی طرح علاقے میں کسی ضرورت مند خاندان کی بچی کی شادی ہوتی تو وہ خود مکمل جہیز تیار کر کے دیتیں۔ ان کے نزدیک رشتہ صرف خون کا نہیں بلکہ انسانیت کا تھا، اسی لیے پشاور کینٹ کے تمام مکین ان کے لیے ایک خاندان کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وہ اعلیٰ اقدار ہیں جو ہمارے خاندانی نظام کو وسعت دیتی ہیں اور یہی ہماری وہ تہذیبی پہچان ہے جہاں رشتے نبھائے جاتے ہیں اور روایتیں زندہ رکھی جاتی ہیں۔
اسی اہمیت کے پیشِ نظر اقوام متحدہ نے 1994 میں 15 مئی کو عالمی یوم خاندان قرار دیا تاکہ دنیا کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ خاندان ہی کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا بدلتا ہوا معاشرہ اس بنیاد کو کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔ دورِ حاضر کی بے جا مصروفیات، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور معاشی دباؤ نے رشتوں کے درمیان دبے پاؤں فاصلے پیدا کر دئیے ہیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک ہی چھت تلے رہتے ہوئے بھی افرادِ خانہ ایک دوسرے سے اجنبی ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے خاندانی نظام کی اہمیت کو دوبارہ سمجھیں اور گھروں میں مکالمے کی فضا بحال کریں۔ ہمیں بزرگوں کے تجربات سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے اور نئی نسل کو رشتوں کی قدر و قیمت سکھانی چاہیے، کیونکہ حقیقی ترقی صرف مادی سہولتوں کا حصول نہیں بلکہ مضبوط انسانی تعلقات کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جب رشتے مضبوط ہوتے ہیں تو روایتیں سانس لیتی ہیں، اور جب روایتیں زندہ رہیں تو معاشرہ اپنی اصل پہچان برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔ یاد رکھیے کہ مضبوط خاندان ہی ایک مستحکم اور باوقار قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here