پاکستان میں دہشت گردی اور خطے کی کشیدگی!!!

0
12
شبیر گُل

پاکستان اس وقت دہشت گردی کی ایک شدید لہر کی زد میں ہے اور ہر گزرتا دن کسی نہ کسی دردناک واقعے کی خبر لے کر آتا ہے۔ یہ خطرہ اس لیے بھی سنگین ہو چکا ہے کیونکہ مقامی سہولت کاروں کی موجودگی کی وجہ سے دہشت گرد عناصر معاشرے میں گہرائی تک سرایت کر گئے ہیں جو قومی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ وطن عزیز کے خلاف اندرونی اور بیرونی دشمن صف آراء ہیں جبکہ پاکستان خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس تناظر میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے اور دوسری جانب نیتن یاہو اور ٹرمپ کے سخت گیر رویوں نے علاقائی امن کو داؤ پر لگا دیا ہے جس کے نتیجے میں عرب ممالک میں معاشی مشکلات نے جنم لیا ہے۔ خلیجی صورتحال کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی جہاں ایران شدید حملوں اور انفراسٹرکچر کی بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہا۔ اس کشیدگی میں امریکہ نے ایران کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن اسے واضح کامیابی حاصل نہ ہو سکی جبکہ اسرائیل کو بھی ایرانی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تمام صورتحال میں متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ بھارت نے اس دوران ایران کے خلاف اسرائیل کی کھلی حمایت کی اور وہاں اپنے جاسوسی نیٹ ورک کو وسعت دی جس کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر ہزیمت اٹھانی پڑی اور اب وہ اسی ناکامی کا بدلہ پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر کے لے رہا ہے۔
پاکستان کی اسٹریٹجک سفارت کاری گزشتہ دو سالوں میں انتہائی کامیاب رہی ہے اور اللہ کے فضل سے مملکت کو عالمی سطح پر ایک خاص مقام حاصل ہوا ہے۔ پاکستان نے فریقین کو تین بار مذاکرات کی میز پر بٹھایا اور حالیہ جنگ بندی بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ امریکہ اور ایران اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مذاکرات میں کبھی تعطل اور کبھی پیش رفت ہوتی ہے لیکن پاکستان کی ان کاوشوں کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس وقت آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکہ کی جانب سے کی گئی ناکہ بندی ایک بڑا تنازع ہے کیونکہ امریکہ ایران سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور مخصوص گروپوں کی حمایت بند کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ ایران کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ پاکستان کی ان کامیابیوں کو بھارت ہضم نہیں کر پا رہا ہے اور اسی لیے مودی حکومت ایک بار پھر جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے بھارتی دعوؤں کو سخت جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ مردوں کا کھیل ہے اور پاکستان اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت اب افغان طالبان کے ذریعے پاکستان میں پراکسی وار چلا رہا ہے جس کی وجہ سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور داعش جیسے گروہ مشترکہ طور پر کارروائیاں کر کے جانی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پاکستانی مقتدرہ کو ان دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے ایک بڑے اور فیصلہ کن آپریشن کی ضرورت ہے۔ بنوں کے پولیس اسٹیشن پر حالیہ حملہ اور 12 مئی کو پل کی تباہی جیسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔ لکی مروت میں ہونیوالی بڑی کارروائی اور خیبر پختونخوا میں مسلسل ہدف بنائی جانے والی سیکورٹی فورسز کو اب طالبانی انتظامیہ اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور فضائی اور زمینی کارروائی کرنی ہو گی۔ پاکستان کو اب ادھر ادھر توجہ دینے کی بجائے براہ راست ان دہشت گرد رہنماؤں کو نشانہ بنانا ہو گا جو دہائیوں تک پاکستان سے مستفید ہونے کے باوجود اب اسی کیخلاف برسرِ پیکار ہیں۔ دشمن ممالک بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنا رہے ہیں جس کے لیے افغان سرحد کو مکمل طور پر سیل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بھارت نے ان علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اربوں ڈالر جھونک رکھے ہیں جس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت، سیکورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔
اندرونی طور پر پاکستان کو سیاسی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بھی سامنا ہے جس نے عوام کو شدید پریشان کر رکھا ہے۔ بجلی، پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام پر بوجھ بن رہا ہے جبکہ مقتدر طبقات کو دی جانے والی مفت مراعات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سولر پینل استعمال کرنے والوں پر ممکنہ ٹیکسوں کی خبریں بھی تشویشناک ہیں حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ آنے والے بجٹ میں مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے حکومتی سطح پر اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو دہشت گردی کی اس لعنت سے نجات عطا فرمائے اور پورے خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here