محترم عتیق صدیقی کی اہلیہ کے انتقال پر ملال اور ان کی طویل ادبی خدمات کے پس منظر میں یہ تحریر ایک گہرے دکھ اور عقیدت کا آئینہ دار ہے۔ اتوار کی شب جب معمول کے مطابق مواصلاتی پیغامات کا جائزہ لیا گیا تو عتیق صدیقی صاحب کی جانب سے اپنی اہلیہ کی صحت یابی کے لیے کی گئی ایک درمندانہ اپیل نے دل کو لرزا کر رکھ دیا۔ وہ اپنی شریکِ حیات کی شدید علالت کے باعث بنگہمٹن کے ایک ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں موجود تھے اور تمام دوستوں سے عاجزانہ دعا کے طالب تھے۔ عتیق صاحب کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کے ہم سب علمی و ادبی طور پر مقروض ہیں کیونکہ امریکہ آمد سے قبل وہ پاکستان ٹیلی ویڑن پشاور مرکز میں بطور ڈائریکٹر وابستہ رہے اور وہاں انہوں نے پشاور مرکز کے لیے متعدد یادگار ڈرامے تحریر کیے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ضیاء الحق کے دور میں انہیں کچھ سیاسی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا جس کے بعد وہ یہاں منتقل ہو گئے اور ہوٹل کے کاروبار سے وابستہ ہونے کے باوجود اپنی ادبی سرگرمیاں کبھی ماند نہیں پڑنے دیں۔ وہ اردو ٹائمز ویکلی میں مسلسل کالم نگاری کرتے رہے اور ان کے تجزئیے بالخصوص روس اور افغانستان کی جنگ اور امریکی پالیسیوں پر ان کی گرفت قارئین کو ہمیشہ متاثر کرتی رہی۔ انہوں نے اپنے کالموں کو تقویم نامی کتاب میں یکجا کر کے ایک تاریخی دستاویز مرتب کی ہے جبکہ طاہر خان کے ٹیلی ویڑن پروگراموں میں بھی وہ بطور مہمانِ خصوصی اپنی بصیرت کا لوہا منواتے رہے۔
عتیق صدیقی صاحب نے اپنی اہلیہ کی بیماری کا کٹھن وقت جس صبر اور ہمت سے گزارا وہ قابلِ ستائش ہے کیونکہ انہوں نے تنہائی میں ہسپتال اور گھر کے چکر کاٹتے ہوئے اس آزمائش کا تنہا سامنا کیا اور اپنی اہلیہ کی خواہش پر تمام تر خصوصی انتظامات کو یقینی بنایا۔ ان کی زندگی کے 53 سال نیویارک میں ایک ایسی وضع داری کے ساتھ گزرے کہ وہ اپنی ذات کی تشہیر کے بجائے ہمیشہ انسانیت اور اخلاق کو مقدم رکھتے رہے۔ وکیل انصاری جیسے معتبر ادبی نام بھی ان کی مخلصانہ شخصیت کے معترف ہیں جو ان کے دوستانہ برتاؤ اور میزبانی کے قصے سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ عتیق صاحب دو سو میل کی مسافت طے کر کے نیویارک آتے اور دوستوں کے لیے خود ہوٹل میں کمرے بک کروا کر ان کی خاطر تواضع کرتے تھے۔ عتیق صاحب کی شخصیت کا سب سے بڑا پہلو ان کا ایثار ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ان کی اہلیہ ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھیں اس وقت بھی انہوں نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 مئی کو ایک زیرِ طبع کتاب پر اپنا تبصرہ مکمل کر کے دیا۔ یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ اپنی شدید ذاتی پریشانی کو دوسروں کے علمی کام میں حائل نہیں ہونے دیا اور توقع سے بڑھ کر اپنی ادبی ذمہ داری پوری کی۔
آج صبح یہ اندوہناک اطلاع موصول ہوئی کہ ان کی اہلیہ جو طویل عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھیں اب اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئی ہیں۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اس طرح سوگوار کر کے جانا عتیق صاحب اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک عظیم صدمہ ہے۔ مرحومہ کی نمازِ جنازہ 11 مئی 2026 بروز پیر دوپہر ڈیڑھ بجے ادا کی گئی اور انہیں جانسن سٹی کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اس دکھ کی گھڑی میں تمام دوست احباب اور لواحقین جن میں شائق امیر، ارتقاء صدیقی، حسن احمد اور اعزاز صدیقی شامل ہیں ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ طاہر خان اور وکیل انصاری جیسے قریبی رفقاء جو حادثات اور دیگر مجبوریوں کے باعث جنازے میں شرکت نہ کر سکے وہ بھی دل سے رنجیدہ ہیں۔ ڈاکٹر عامر اور دیگر ساتھیوں نے بھی اس مشکل وقت میں عتیق صاحب کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا تاکہ اس آخری سفر کی تمام تر ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کی جا سکیں۔ عتیق صاحب خود بھی ایک طویل علالت کے بعد صحت یاب ہوئے تھے اور پچھلے سال عمرہ کی ادائیگی کے دوران بھی ان کی اہلیہ کی طبیعت اچانک ناساز ہونے کے باعث انہیں سعودی عرب کے ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔ دعا ہے کہ باری تعالیٰ مرحومہ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔












