ٹرمپ کی دھمکیوں پرایران کی 90% یورینیم افزودگی کی وارننگ

0
12

ٹرمپ کی دھمکیوں
پرایران کی 90% یورینیم افزودگی کی وارننگ

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں برسوں سے جاری کشیدگی اب اپنے حتمی اور شاید سب سے زیادہ سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران کی جانب سے نوے فیصد تک یورینیم کی افزودگی کا حالیہ اشارہ محض ایک تکنیکی بیان نہیں بلکہ یہ تہران کی جانب سے دنیا کے سامنے اپنی بقا کی جنگ کا ایک ایسا اعلان ہے جس نے واشنگٹن سے لے کر تل ابیب تک کھلبلی مچا دی ہے۔ تہران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے ترجمان کا یہ بیان کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران اپنی جوہری حد کو نوے فیصد تک لے جا سکتا ہے، دراصل ایک ایسی دھمکی ہے جسے عالمی طاقتیں نظر انداز کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔ جوہری سائنس کی زبان میں نوے فیصد کی حد کا مطلب ہتھیار سازی کے درجے تک پہنچنا ہے، اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے واپسی کا راستہ ناممکن تو نہیں مگر انتہائی کٹھن ضرور ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ایران اب بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے عزائم خالصتاً پرامن اور شہری ضروریات کے لیے ہیں، لیکن اس کا یہ نیا موقف اس دفاعی ڈھال کا حصہ معلوم ہوتا ہے جو اس نے گزشتہ چند سالوں میں بیرونی دباؤ اور فوجی حملوں کے ردِعمل میں تیار کی ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایران کا جوہری سفر کئی نشیب و فراز سے گزرا ہے، مگر آج کی صورتحال ماضی سے یکسر مختلف ہے۔ اب معاملہ محض مذاکرات کی میز پر مراعات حاصل کرنے کا نہیں رہا بلکہ یہ ایک ریاست کے وجود اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایران پر لگائی جانے والی سخت ترین معاشی پابندیاں اور اس کے جوہری ماہرین کو نشانہ بنانے کی خفیہ مہمات نے تہران کو اس نتیجے پر پہنچا دیا ہے کہ بین الاقوامی وعدوں اور معاہدوں کی حیثیت اب کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہی۔ سن دو ہزار پندرہ کا عالمی جوہری معاہدہ جو کبھی امن کی امید بن کر ابھرا تھا، اس کی ناکامی نے ایران کے اندر ان قوتوں کو مضبوط کر دیا ہے جو کسی بھی بیرونی سمجھوتے کے بجائے اپنی داخلی طاقت بڑھانے پر یقین رکھتی ہیں۔ آج جب دنیا کے مقتدر حلقے ایران کے اس ممکنہ قدم پر بحث کر رہے ہیں تو انہیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ تہران کو اس دیوار سے کس نے لگایا جہاں اس کے پاس اب جارحانہ دفاع کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچا ہے۔
اس پورے منظر نامے میں اسرائیل کا کردار کلیدی رہا ہے، جو ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ اسرائیل کی یہ پالیسی رہی ہے کہ خطے میں کسی دوسری ریاست کو جوہری برتری حاصل نہ ہو، اور اس مقصد کے لیے اس نے ماضی میں کئی بار فضائی کارروائیاں اور تخریبی حملے بھی کیے ہیں۔ تاہم ایران کی حالیہ وارننگ اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکری دباؤ نے تہران کے ارادوں کو کمزور کرنے کے بجائے مزید پختہ کر دیا ہے۔ اگر ایران نوے فیصد کی حد عبور کر لیتا ہے تو اس کے اثرات محض اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ عمل مشرقِ وسطیٰ میں ہتھیاروں کی ایک ایسی دوڑ شروع کر سکتا ہے جس کی لپیٹ میں سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے ممالک بھی آ سکتے ہیں۔ علاقائی طاقتوں کا یہ توازن بگڑنے سے عالمی سیاست کا نقشہ تبدیل ہو جائے گا اور مشرقِ وسطیٰ جو پہلے ہی بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے، ایک ایسی آگ کی زد میں آ سکتا ہے جس پر قابو پانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔
ایران کا یہ فیصلہ کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیوں کو ہتھیار سازی کے قریب ترین سطح پر لے جائے گا، دراصل عالمی سفارت کاری کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بین الاقوامی ادارے جو کبھی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے ضامن سمجھے جاتے تھے، اب محض تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔ تہران کا موقف ہے کہ جب اس کی قومی سلامتی کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو اور اس کے معاشی اثاثوں کو منجمد کر کے عوام کا جینا دوبھر کر دیا جائے تو اس کے پاس اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکنہ راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ ہے۔ یہ بحث اب اس قانونی نکتے سے آگے نکل چکی ہے کہ معاہدے کیا کہتے ہیں، بلکہ اب سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری کسی نئی جنگ کو روکنے کی سکت رکھتی ہے یا نہیں۔ ایران کے پاس موجود جدید ترین مشینری اور افزودہ شدہ یورینیم کا بڑا ذخیرہ اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ بہت ہی مختصر وقت میں ایٹمی دھماکے کی صلاحیت حاصل کر لے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس نے امریکہ کی نئی حکومت کو بھی ایک مشکل امتحان میں ڈال دیا ہے۔
مستقبل قریب میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ ایران کی یہ دھمکی کیا عملی جامہ پہنتی ہے یا یہ محض ایک دباؤ ڈالنے کا حربہ ہے۔ اگر تہران نے واقعی نوے فیصد کا ہدف حاصل کر لیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ دنیا کی ان چند ریاستوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہیں جوہری دہلیز والی ریاستیں کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ایران کو فوجی طاقت کے ذریعے روکنا تقریبا ناممکن ہو جائے گا کیونکہ کسی بھی حملے کا نتیجہ ایٹمی تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب مذاکرات کی گنجائش بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ تہران کی ریڈ لائنز اب واضح ہو چکی ہیں اور اس نے اپنے اثاثوں کی واپسی اور پابندیوں کے خاتمے کو مشروط کر دیا ہے۔ اگر عالمی طاقتوں نے ہوشمندی سے کام نہ لیا اور ایران کی سلامتی کے خدشات کو دور نہ کیا تو ہم ایک ایسے مشرقِ وسطیٰ کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ایٹمی سائے ہر وقت منڈلاتے رہیں گے۔ یہ وہ وقت ہے جب دنیا کو طاقت کے بجائے حکمت اور مفاہمت کے راستے تلاش کرنے ہوں گے، ورنہ بارود کی یہ بو ایک ایسی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی جس کا تصور بھی ہولناک ہے۔ ایران کا ایٹمی اعلان درحقیقت دنیا کے لیے ایک آخری وارننگ ہے کہ پرانے ضابطے اب دم توڑ چکے ہیں اور نئے عالمی نظم و ضبط کی تشکیل اب ناگزیر ہو چکی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here