خوابِ پاکستان اور خوابِ ہجرت!!!

0
11
ماجد جرال
ماجد جرال

برصغیر کے مسلمانوں کیلئے امید، آزادی اور خود مختاری کی علامت بن کر ابھرنے والا پاکستان آج ایک ایسی گہری نفسیاتی اور سماجی کیفیت سے گزر رہا ہے جہاں قیامِ پاکستان کے عظیم خواب پر ہجرت کی خواہش غالب آتی دکھائی دیتی ہے۔ مصورِ پاکستان علامہ اقبال نے جس آزاد ریاست کا خواب دیکھا تھا، وہ بلاشبہ شرمندہ تعبیر ہوا، لیکن آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت، بالخصوص نوجوان نسل، کا روزمرہ کا خواب اس ملک سے نکل جانے سے جڑا ہے۔ ایک پرانے صحافی دوست کی یہ بات کہ پاکستانیوں کا سب سے بڑا خواب اب ملک چھوڑنا بن چکا ہے، محض ایک تبصرہ نہیں بلکہ موجودہ عہد کا وہ المیہ ہے جس سے اتفاق کرنا اب مجبوری بن چکا ہے۔ یہ صورتحال اس لیے جنم لے رہی ہے کیونکہ قیامِ پاکستان کے وقت جس روشن مستقبل کا تصور پیش کیا گیا تھا، اس کی بنیاد ایک ایسے معاشرے پر تھی جہاں انصاف، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتیں عام ہوں اور ہر شہری کو اپنی قابلیت کے مطابق ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل سیاسی عدم استحکام، معاشی بحرانوں، بدعنوانی اور ناقص حکمرانی نے ان عوامی امیدوں کو شدید زک پہنچائی ہے، جس کا نتیجہ اس مایوس کن رجحان کی صورت میں نکلا کہ اب ترقی کا واحد پیمانہ بیرونِ ملک منتقلی قرار پا چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں ڈاکٹرز، انجینئرز، ماہرینِ ٹیکنالوجی اور صحافی اپنے لیے اس سرزمین پر کسی محفوظ اور روشن مستقبل کی جھلک نہیں پاتے، چنانچہ وہ بہتر روزگار، معاشی استحکام اور قانون کی بالادستی کی تلاش میں کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ اور خلیجی ممالک کی راہ لیتے ہیں۔ یہ نقل مکانی صرف معاشی ہجرت نہیں بلکہ ریاست پر سے اعتماد کی ہجرت بھی ہے، جس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب یہ رجحان صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے تک محدود نہیں رہا۔ اب متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ بھی بہتر مستقبل کی جستجو میں غیر قانونی راستوں اور خطرناک سمندری سفروں کے ذریعے انسانی اسمگلروں کے رحم و کرم پر اپنی زندگیاں داؤ پر لگا رہے ہیں، جہاں کئی نوجوان اپنی منزل پانے سے قبل ہی لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اس بے چینی کی بڑی وجہ یہ احساس ہے کہ وطنِ عزیز میں محنت اور قابلیت کے بجائے سفارش، کرپشن اور سیاسی مداخلت کو عروج حاصل ہے، جس سے نوجوانوں کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان کی صلاحیتوں کی اصل قدر شاید دیارِ غیر میں ہی ممکن ہے۔
اگرچہ اس تصویر کا ایک روشن رخ یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی اپنی محنت اور دیانت سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور ان کا بھیجا ہوا کثیر زرمبادلہ ہماری معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر یہ حقیقت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ پاکستانی قوم کی صلاحیتوں میں نہیں بلکہ ان حالات میں ہے جو ان صلاحیتوں کو اپنے وطن میں پنپنے کا موقع نہیں دیتے۔ اس مایوسی کو امید میں بدلنے کے لیے ناگزیر ہے کہ ملک میں ایسا شفاف نظام، معیاری تعلیم اور انصاف کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے جہاں نوجوانوں کو یہ یقین ہو کہ ان کی محنت کا صلہ انہیں اپنی ہی مٹی سے ملے گا۔ علامہ اقبال کا خواب محض ایک جغرافیائی خطے کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسی فلاحی اور خوددار ریاست کی تشکیل تھی جہاں انسان کو عزت اور ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ لہٰذا اگر ہم واقعی اس خواب کی تکمیل کے خواہاں ہیں تو ہمیں ایک ایسا پاکستان تشکیل دینا ہوگا جہاں کے باسیوں کا سب سے بڑا خواب ملک چھوڑنا نہیں بلکہ اس ملک کو سنوارنا ہو۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here