سمندری گزرگاہوں پر بالادستی کی قدیم جنگ: کیا ایران ماضی کو دہرا رہا ہے؟

0
13

انسانی تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ زمین کے خشک خطوں سے کہیں زیادہ عالمی اقتدار کی کنجی ان وسیع و عریض سمندروں اور ان کی تنگ گزرگاہوں میں چھپی رہی ہے جنہیں عرفِ عام میں آبی گزرگاہیں کہا جاتا ہے۔ رومی سلطنت وہ پہلی عالمی قوت تھی جس نے باقاعدہ طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ بحیرہ روم ان کی ملکیت ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے اپنی سلطنت کی حدود اور اثر و رسوخ کا تعین کیا۔ یہ وہ دور تھا جب پانیوں پر قبضے کو طاقت کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اگر ہم پندرہویں صدی کے اواخر پر نظر ڈالیں تو یورپی جہاز رانوں نے افریقہ سے لے کر بحرِ اوقیانوس تک کے تمام سمندری راستوں کو ایک مربوط تجارتی نظام میں پرو دیا تھا۔ یہی وہ نقشہ ہے جس پر آج کی عالمی تجارت کی بنیاد کھڑی ہے۔ اس پورے تاریخی عمل میں خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ یعنی آبنائے ہرمز کو ایک کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔ سولہویں صدی کے آغاز میں جب پرتگالیوں نے ایک عظیم بحری طاقت کے طور پر ابھرنا شروع کیا تو انہوں نے دنیا کے تمام اہم آبی راستوں پر اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔ سن 1500 کے لگ بھگ انہوں نے اس تزویراتی گزرگاہ پر قبضہ جما لیا تھا جو مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا اہم ترین راستہ تھا۔ تاہم تاریخ کا ایک اہم موڑ وہ تھا جب سن 1622 میں اہل فارس نے اپنی عسکری قوت اور تزویراتی بصیرت کے بل بوتے پر پرتگالیوں کے طویل قبضے کو ختم کر کے اس آبنائے کا کنٹرول دوبارہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ یہ واقعہ محض ایک جنگی فتح نہیں تھی بلکہ یہ ایران کے شعور میں ایک ایسی فتح کے طور پر نقش ہو گیا جس نے ثابت کیا کہ وہ اپنی حدود میں کسی بھی یورپی طاقت کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ آج اگر ہم خطے میں ایران کے جارحانہ عزائم اور اس آبی گزرگاہ پر اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی تگ و دو کا مشاہدہ کریں تو یہ دراصل اسی قدیم تہذیبی یادداشت کا ایک جدید اظہار ہے۔ یہ کوئی نیا عمل نہیں ہے بلکہ یہ اس تاریخی تسلسل کا حصہ ہے جہاں ایک علاقائی قوت اپنی بقا اور خود مختاری کے لیے عالمی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہے۔پرتگالیوں کے بعد برطانیہ نے دنیا بھر کے سمندروں پر اپنی حکمرانی قائم کی اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک یہ بالادستی برقرار رہی۔ برطانوی بحریہ نے اس حکمت عملی پر عمل کیا کہ اگر آپ دنیا کے اہم ترین دروازوں یعنی آبی گزرگاہوں کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں تو ان کے پیچھے بسنے والی تمام ریاستیں اور سلطنتیں خود بخود آپ کی اطاعت گزاری پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب برطانیہ کو سمندروں کا بے تاج بادشاہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ لیکن بیسویں صدی کے وسط میں جب برطانیہ کے زوال کا سورج طلوع ہوا تو اس کی جگہ امریکہ نے سنبھال لی۔ امریکی بحریہ نے ان تمام اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کر لیا جہاں سے برطانوی افواج دستبردار ہو رہی تھیں۔ امریکہ نے ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دینے کا دعویٰ کیا جس میں تمام سمندری راستوں کو عالمی تجارت کے لیے کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضمانت دی گئی۔ لگ بھگ پچھتر برس تک یہ نظام کسی نہ کسی صورت میں چلتا رہا اور دنیا نے اسے سمندروں کی آزادی کے طور پر قبول کیا۔ تاہم سن 2019 کے بعد سے اس نظام میں واضح دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ عالمی سطح پر طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور وہ ضمانتیں جو امریکہ نے عالمی تجارت کو فراہم کی تھیں اب کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ تبدیلی رونما ہو رہی تھی تو عالمی طاقتوں کی توجہ دیگر تنازعات اور جنگوں کی طرف مبذول تھی جس کی وجہ سے اس خاموش تبدیلی کو بروقت محسوس نہیں کیا گیا۔ آج ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئے بلاک تشکیل پا رہے ہیں۔ سمندروں پر قبضے کی یہ جنگ جو رومیوں سے شروع ہوئی تھی اور پرتگالیوں، برطانویوں اور امریکیوں سے ہوتی ہوئی آج کے دور تک پہنچی ہے اب ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران کی جانب سے اپنی سمندری حدود میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور عالمی دباؤ کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹے رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ چار سو سال پرانی تاریخ کو دہرا کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس خطے کے پانیوں کا اصل وارث وہی ہے۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر یہ تاریخی کشمکش کسی بڑے تصادم کی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات محض خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں سمندری راستوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور جو طاقت ان راستوں پر قابض ہو گی وہی مستقبل کی عالمی سیاست کا رخ متعین کرے گی۔ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے اور اس بار کھلاڑی وہی پرانے ہیں لیکن بساط نئی ہے اور داؤ پر لگی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ گراں قدر ہے۔ سمندروں کی خاموش لہروں کے نیچے چھپی یہ تزویراتی جنگ آنے والے برسوں میں دنیا کے نئے جغرافیائی اور معاشی نقشے ترتیب دے گی جس کا مرکز ایک بار پھر وہی قدیم آبی گزرگاہیں ہوں گی جنہوں نے صدیوں سے سلطنتوں کے عروج و زوال کا فیصلہ کیا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here