ہجرتِ نبوی کا تاریخی راستہ: قدیم نشانات پرجدید سفر!!!

0
5
شمیم سیّد
شمیم سیّد

سعودی عرب کی حکومت نے حال ہی میں ایک ایسے فقید المثال اور ہمہ گیر منصوبے کی تکمیل کی ہے جس نے عالمِ اسلام کے عقیدت مندوں کے دلوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ یہ منصوبہ سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ۖ کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب اس تاریخی سفر کی یادوں کو تازہ کرتا ہے جسے تاریخ عالم میں ہجرتِ مدینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس عظیم الشان منصوبے کو عربی زبان میں الخطوہ کا نام دیا گیا ہے جس کا مفہوم ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے۔ یہ محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی شاہراہ ہے جو صدیوں پرانی تاریخ کو جدید دور کی سہولیات کے ساتھ ہم آہنگ کر کے زائرین کے سامنے پیش کرتی ہے۔ چار سو ستر کلومیٹر پر محیط یہ طویل راستہ مکہ مکرمہ کی خاک سے شروع ہو کر غارِ ثور کی بلندیوں کو چھوتا ہوا مدینہ منورہ کی مسجدِ قبا تک پہنچتا ہے۔ یہ وہی دشوار گزار راستہ ہے جو اللہ کے آخری رسول ۖ نے حضرت ابوبکر صدیق کے ہمراہ 622 عیسوی میں مکہ کے مشرکین کے ظلم و ستم سے بچنے اور اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک نئے مرکز کی بنیاد رکھنے کی خاطر اختیار کیا تھا۔ اس منصوبے کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں اکتالیس ایسے تاریخی مقامات کی مکمل طور پر بحالی کی گئی ہے جو اس سفر کے دوران سنگِ میل کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان مقامات پر کھڑے ہو کر انسان خود کو اسی چودہ سو سال پرانے ماحول میں محسوس کرتا ہے جہاں حق اور باطل کے معرکے نے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔
اس منصوبے کی تکمیل میں جہاں قدامت کا احترام برقرار رکھا گیا ہے وہیں جدید ترین سہولیات کا ایسا امتزاج پیدا کیا گیا ہے جو سیاحت اور زیارت کے معیار کو نئی بلندیوں پر لے جاتا ہے۔ زائرین کی سہولت کے لیے پورے راستے میں ایک سو بارہ کھانے پینے کے مراکز اور سات بڑے رہائشی مراکز یعنی ہوٹل تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ مسافر بغیر کسی مشقت کے اس طویل سفر کو طے کر سکیں۔ تاہم اس منصوبے کی سب سے حیران کن خصوصیت وہ جدید ترین ٹیکنالوجی ہے جس کا استعمال کر کے ہجرت کے لمحات کو جیتے جاگتے مناظر میں بدل دیا گیا ہے۔ وہاں ایسے سہ جہتی عکس اور مجازی حقیقت کے آلات نصب کیے گئے ہیں جن کی مدد سے زائرین اپنی آنکھوں سے ان واقعات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں جو اس ہجرت کے دوران پیش آئے۔ یہاں تک کہ ایک خاص قسم کا جدید سینما بھی بنایا گیا ہے جہاں بیٹھ کر انسان ہجرت کے ہر لمحے کو اس کے حقیقی وقت اور احساس کے ساتھ محسوس کر سکتا ہے۔ یہ تمام انتظامات اس لیے کیے گئے ہیں تاکہ نئی نسل اپنے اسلاف کی قربانیوں اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے دی جانے والی تکالیف کو صرف کتابوں میں نہ پڑھے بلکہ اپنی آنکھوں سے ان کا ادراک کر سکے۔
صحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ منصوبہ مذہبی سیاحت کے شعبے میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف مسلمانوں کو اپنی تاریخ سے جوڑنے کا ایک ذریعہ ہے بلکہ دنیا بھر کے محققین اور مورخین کیلئے بھی ایک ایسی تجربہ گاہ ہے جہاں وہ قدیم جغرافیائی حالات کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے سعودی عرب نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی اسلامی شناخت اور ورثے کی حفاظت کے لیے جدید ترین وسائل کا استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ جو لوگ اس روحانی سفر کا ارادہ رکھتے ہیں ان کے لیے اب باقاعدہ طور پر رجسٹریشن اور ویب گاہ کے ذریعے اندراج کا نظام بھی وضع کر دیا گیا ہے۔ یہ پورا راستہ ایمان کی تازگی اور تاریخ کی سچائیوں کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں پہنچ کر انسان کے دل میں اسلام کی حقانیت اور نبی کریم ۖ کی استقامت کا نقش مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی اس بات میں پنہاں ہے کہ یہ ہمیں ماضی کے دریچوں سے مستقبل کی طرف دیکھنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے اور یہ یقین دلاتا ہے کہ حق کا راستہ ہمیشہ روشن اور تابندہ رہتا ہے۔ یہ اقدام بلاشبہ عالمِ اسلام کے لیے ایک تحفہ ہے جو آنے والی کئی نسلوں تک ہجرتِ نبوی کی خوشبو کو دلوں میں زندہ رکھے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here