واشنگٹن (پاکستان نیوز)واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے روایتی عشائیے کے دوران فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے نے اس وقت سنسنی پھیلا دی جب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کی جانب سے محض مزاح کے طور پر کہی گئی بات چند گھنٹوں بعد ہی ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آگئی۔ وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے باقاعدہ آغاز سے قبل مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان کیرولین لیوٹ نے ازراہ مذاق کہا تھا کہ آج کچھ گولیاں چلیں گی کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی دلچسپ اور دھواں دھار گفتگو کرنے والے ہیں۔ ترجمان کی جانب سے محض محاورے کے طور پر استعمال کیے گئے یہ الفاظ اس وقت سچ ثابت ہوئے جب ہفتے کی رات تقریب کے دوران اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہال میں موجود افراد کو خوفزدہ کر دیا۔ اس حملے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم عالمی و مقامی شخصیات وہاں موجود تھیں تاہم سیکریٹ سروس کی فوری اور بہادرانہ کارروائی کے باعث امریکی صدر اور تمام مہمان مکمل طور پر محفوظ رہے۔ سکیورٹی حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس حملہ آور کو قابو کر کے گرفتار کر لیا جس نے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ واقعے کے بعد میڈیا سے ہنگامی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ مشتبہ شخص کے پاس بڑی تعداد میں خطرناک ہتھیار موجود تھے اور اس نے محض 15 گز کے فاصلے سے حملے کی کوشش کی۔ صدر کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس حملے کا اصل ہدف وہی تھے تاہم ان کے خیال میں اس شوٹنگ کا ایران کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی یا جنگی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس لمحے کو اپنی زندگی کا انتہائی حیرت انگیز اور پریشان کن لمحہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ٹرے گرنے جیسی زوردار آوازیں سنیں اور وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اصل میں کیا ہوا ہے جبکہ ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے فوراً بھانپ لیا تھا کہ یہ آوازیں کسی بڑے خطرے کی علامت ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر گہرائی سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حملے کے اصل محرکات اور اس کے پس پردہ موجود دیگر عناصر کا پتہ لگایا جا سکے۔ اس واقعے نے وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی اور حساس تقریبات کے دوران حفاظتی انتظامات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔













