نیویارک (پاکستان نیوز) پاکستان، چین اور ایران نے عالمی سیاسی تناؤ اور امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی و عسکری نبرد آزمائی کے مشکل دور میں ایک تاریخی تزویراتی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی مشترکہ تجارتی راہداری کا عملی آغاز کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو مغربی اور بحری ناکہ بندی کا سامنا ہے اور عالمی سمندری گزرگاہوں پر تنازعات کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس نئے انتظام کے تحت اب چینی مصنوعات پاکستان کی بندرگاہوں اور زمینی راستوں سے ہوتی ہوئی ایران کے راستے براہ راست ترکی اور وہاں سے یورپ تک پہنچ سکیں گی۔ اس انقلابی منصوبے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اب چین اور ایران کو اپنی تجارت کے لیے کسی بھی سمندری رابطے یا آبی گزرگاہ پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ ایک مکمل طور پر محفوظ زمینی راستہ دستیاب ہوگا جو بین الاقوامی ناکہ بندیوں کے اثرات سے مکمل طور پر آزاد ہے۔ وزارت تجارت کے جاری کردہ پاکستان کے ذریعے سامان کی ٹرانزٹ آرڈر 2026 کے تحت ایران کی مصنوعات اور ٹرانزٹ تجارت کے لیے چھ مختلف روٹس کھولے گئے ہیں، جو درحقیقت پاک چین اقتصادی راہداری کے بنیادی ڈھانچے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سہ فریقی تعاون کے نتیجے میں گوادر کی بندرگاہ اب محض ایک تجارتی مرکز نہیں رہی بلکہ یہ بیجنگ، تہران اور انقرہ کو ملانے والی ایک ایسی زنجیر بن گئی ہے جو امریکی اثر و رسوخ کے حامل سمندری راستوں کا متبادل ثابت ہوگی۔ اقتصادی ماہرین اس پیش رفت کو عالمی تجارت میں ایک نئے بلاک کی تشکیل قرار دے رہے ہیں، جہاں پاکستان لاجسٹکس حب کے طور پر ابھرے گا اور چینی مصنوعات تافتان اور زاہدان کے راستے استنبول تک انتہائی کم وقت اور کم لاگت میں پہنچ سکیں گی۔ معاشی طور پر یہ منصوبہ پاکستان کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہے کیونکہ اس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ٹرانزٹ فیس کی مد میں بھاری اضافہ ہوگا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلو میٹر طویل سرحد پر موجود تافتان اور گبد جیسی گزرگاہوں کے فعال ہونے سے بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کا ایک نیا دور شروع ہوگا، جبکہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر کارگو ہینڈلنگ کی شرح میں ریکارڈ اضافہ متوقع ہے۔ اس انتظام نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان، چین اور ایران نے مشکل جنگی حالات کے باوجود اپنے تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جس سے نہ صرف خطے میں امریکی ناکہ بندی کے اثرات زائل ہوں گے بلکہ وسطی ایشیا اور یورپ تک رسائی کا ایک نیا اور پائیدار باب بھی روشن ہوگا۔ ظاہری طور پر ایران اپنی مصنوعات کی عالمی تجارت کے لیے پاکستان کی کلیدی بندرگاہوں بشمول گوادر اور کراچی کا استعمال کر سکے گا۔ ان راہداریوں کا بنیادی مقصد ایران کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے کسی تیسرے ملک کو فروخت کر سکے یا کسی دوسرے ملک سے خریدی گئی اشیا پاکستان کے زمینی راستوں سے ایران منتقل کر سکے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب ایران کو فروری سے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے شدید تجارتی مشکلات کا سامنا ہے۔ذہن نشین رہے کہ حکومت پاکستان کے اس اقدام کے پیچھے جہاں برادر ملک کی مدد کا جذبہ شامل ہے وہیں اس کے پس پردہ گہرے معاشی مفادات بھی وابستہ ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کو وسطی ایشیائی ممالک جیسے ازبکستان اور تاجکستان تک رسائی کے لیے افغانستان پر انحصار کم کرنا پڑے گا۔ افغانستان میں عدم استحکام اور سرحدوں کی بار بار بندش کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کو جس پریشانی کا سامنا تھا اس کا متبادل اب ایران کے راستے تلاش کر لیا گیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان سے تجارتی سامان کی پہلی کھیپ تاشقند روانہ کی گئی ہے جو ایران کے راستے اپنے مقصد تک پہنچی۔ یہ نیا تجارتی ڈھانچہ نہ صرف پاک ایران تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا بلکہ پاکستان کو خطے کی معیشت کا محور بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کو اعتماد میں لیے بغیر ممکن نہیں تھا کیونکہ ایران پر عالمی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔ چونکہ پاکستان براہ راست تجارت کے بجائے صرف راہداری کی سہولت دے رہا ہے اس لیے اسے بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اس پر امریکی پابندیوں کا اطلاق ہونے کا خدشہ کم ہے۔ اس تزویراتی اقدام سے پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور وہ خطے میں ایک قابل اعتماد تجارتی راہداری اور لاجسٹکس حب کے طور پر ابھرے گا۔ آنے والے دنوں میں کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر آپریشنز میں مزید تیزی آنے سے ملکی مجموعی قومی پیداوار میں بہتری کی توقع ہے جو ایک مستحکم معاشی مستقبل کی نوید ہے۔










