نیویارک (پاکستان نیوز)میئر زہران ممدانی نے شہر کی تاریخ میں جائیدادوں کی غیر قانونی منتقلی اور جعل سازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کیلئے پہلے باضابطہ دفتر کا افتتاح کر دیا ہے۔ بروکلین کے علاقے بیڈفورڈ اسٹائیوسنٹ میں منعقدہ اس تقریب میں میئر نے واضح کیا کہ اب بزرگوں اور اقلیتی برادریوں کی محنت کی کمائی پر ڈاکا ڈالنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اس نئے ادارے کا مقصد مختلف سرکاری محکموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور جائیداد کے مالکان کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر کونسل ممبر چی اوسے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جائیداد کی جعل سازی ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن اس پیچیدگی کو حکومتی سستی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے میئر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی انتظامیہ اس معاملے پر خاموش تماشائی بنی رہی مگر موجودہ قیادت نے سیاسی سرمایہ داؤ پر لگا کر عوام کے حقوق کی ترجمانی کی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شہر میں ڈیڈ تھیفت کی شکایات میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران سینکڑوں خاندان اپنی چھت سے محروم ہو چکے ہیں۔ میئر نے تقریب کے دوران یہ اعلان بھی کیا کہ ٹیکسوں کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر جائیدادوں کی ضبطی کے عمل کو 6 ماہ کے لیے روک دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ریلیف مل سکے۔ اس نئے دفتر کے قیام سے نہ صرف قانونی چارہ جوئی میں آسانی ہو گی بلکہ جعل سازی کے خطرے سے دوچار علاقوں میں آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے جرائم کا راستہ روکا جا سکے۔ نیویارک کی انتظامیہ کا یہ قدم ہاؤسنگ انصاف کی سمت میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔











