متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا حیران کن فیصلہ، عالمی منڈی پرگہرے اثرات

0
11

دبئی (پاکستان نیوز) متحدہ عرب امارات نے پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی عالمی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہونے والے اس فیصلے کو عالمی توانائی کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ قدم ملک کی پیداواری صلاحیت کے تفصیلی جائزے اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے تاکہ مارکیٹ کی فوری ضروریات کو زیادہ بہتر اور مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ تیل کی صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے اپنی پیداواری حد میں اضافے کا خواہشمند تھا، جبکہ اوپیک کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی راہ میں رکاوٹ تھیں۔ اب آزادانہ پالیسی اختیار کرنے سے امارات کو اپنی یومیہ پیداوار میں اضافہ کرنے اور عالمی منڈی میں اپنا حصہ بڑھانے کا موقع ملے گا۔ اگرچہ اس فیصلے سے قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ ہے، تاہم امارات نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہیں کرے گا اور اضافی پیداوار کو صرف طلب کے مطابق ہی مارکیٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ اوپیک کے لیے متحدہ عرب امارات جیسے بڑے پیدا کار ملک کا جانا ایک بڑا دھچکا ہے، جس سے تنظیم کی قیمتوں پر قابو پانے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، اماراتی وزیر توانائی سہیل المزروعی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سٹریٹجک نوعیت کا ہے اور اس سے منڈی کے استحکام پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here