علی نجمی پر الزامات کے ذریعے ممدانی کیخلاف محاذ آرائی کا انکشاف

0
8

نیویارک (پاکستان نیوز) نیویارک کی مقامی سیاست میں اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جس کا محور بظاہر علی نجمی پر لگنے والے الزامات ہیں لیکن سیاسی مبصرین اسے میئر زوہران ممدانی کیخلاف ایک گہری سازش قرار دے رہے ہیں۔ نیویارک پوسٹ کی جانب سے شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زوہران ممدانی کے قریبی مشیر علی نجمی ایک ایسی قانونی فرم کے ساتھ بطور خصوصی مشیر منسلک ہیں جس پر بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ الزامات براہ راست علی نجمی کی پیشہ ورانہ خدمات یا ان کی انفرادی حیثیت سے متعلق نہیں ہیں لیکن ممانی کے سیاسی مخالفین نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے زوہران ممانی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مہم شروع کر دی ہے۔ علی نجمی اس وقت اس کمیٹی کا حصہ ہیں جو نیویارک شہر کے ججز کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور اسی بنیاد پر مخالفین یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ممانی کی ٹیم عدالتی نظام پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ حقیقت میں یہ تمام حربے ممانی کی عوامی مقبولیت کو کم کرنے اور انہیں دفاعی پوزیشن پر لانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ زوہران ممانی جو کہ اپنی ترقی پسندانہ سیاست اور عوامی حقوق کی جدوجہد کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے ہیں اب اپنے مخالفین کے نشانے پر ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ علی نجمی کے خلاف ان الزامات کو اچھالنا دراصل ممانی کے خلاف ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ 2026 کے انتخابات سے قبل ان کی سیاسی حیثیت کو کمزور کیا جا سکے۔ مخالف گروپ اس معاملے کو بنیاد بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ممانی اپنے عملے کی بیرونی سرگرمیوں پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں حالانکہ قانونی طور پر ممانی کا ان الزامات سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال نیویارک کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے جہاں ذاتی تعلقات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ ممدانی کے اعلیٰ ترین مشیرعلی نجمی جو شہر میں ججوں کے انتخاب کے عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ معاون ایک ایسی قانون دان فرم کے لیے بطور خصوصی مشیر خدمات سرانجام دے رہے ہیں جس پر بڑے پیمانے پر مالی دھوکہ دہی اور فراڈ کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ یہ صورتحال نیویارک کی عدالتی تعیناتیوں کے شفاف عمل پر کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے کیونکہ مذکورہ مشیر اس کمیٹی کا حصہ ہیں جو شہر کے اہم عدالتی عہدوں کے لیے امیدواروں کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ سیاسی مبصرین اور قانونی ماہرین نے اس دوہرے کردار پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مفادات کا واضح ٹکراؤ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک طرف یہ مشیر عدلیہ جیسے مقدس شعبے کے لیے موزوں افراد کا انتخاب کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ ایک ایسی فرم سے منسلک ہیں جس کی ساکھ خود سنگین نوعیت کے جرائم کی وجہ سے داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے روابط عدالتی نظام کی غیر جانبداری کو متاثر کر سکتے ہیں اور عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد متزلزل کر سکتے ہیں۔ ممدانی انتظامیہ کو اس وقت سخت دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ ان تقرریوں کی دوبارہ جانچ کرے اور یہ یقینی بنائے کہ عدالتی انتخاب کے عمل میں شامل کوئی بھی فرد کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمیوں یا متنازع اداروں سے وابستہ نہ ہو۔ یہ واقعہ نیویارک کی موجودہ قیادت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن چکا ہے جس نے اپنی انتخابی مہم میں شفافیت کا وعدہ کیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here