دادا ،پردادا کی بنیاد پر کینیڈین شہریت ؛ نئے قانون کا نفاذ اور درخواستوں کا سیلاب

0
6

ٹورنٹو (پاکستان نیوز)کینیڈا کی حکومت کی جانب سے شہریت کے قوانین میں کی گئی حالیہ تاریخی ترمیم کے بعد غیر ملکیوں بالخصوص امریکی شہریوں کے لیے کینیڈین پاسپورٹ حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں درخواست گزاروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ 15 دسمبر 2025 سے نافذ العمل ہونے والے اس نئے قانون نے شہریت کے پرانے تصور کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے کیونکہ اب شہریت کا استحقاق صرف والدین تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ افراد بھی کینیڈین شہریت کے اہل قرار پائے ہیں جن کے دادا، پردادا یا ان سے پہلے کے آباؤ اجداد کا تعلق کینیڈا سے تھا۔ ماہرینِ امیگریشن کے مطابق ماضی میں کینیڈا کی شہریت صرف ایک نسل تک منتقل ہوتی تھی لیکن نئی قانون سازی نے خاندانی شجرے کی بنیاد پر شہریت کے حصول کو وسعت دے دی ہے۔ اب امیدواروں کو صرف دستاویزی ثبوتوں کے ذریعے اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ خاندانی تعلق ثابت کرنا ہوگا جس کے بعد انہیں شہریت کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جائے گا۔ اس وقت امریکہ اور کینیڈا کے دفاتر میں قانونی مشاورت کے لیے روزانہ درجنوں افراد رابطہ کر رہے ہیں اور اس رجحان کی بڑی وجہ بہتر روزگار، سیاسی استحکام اور مستقبل کا تحفظ بتائی جا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہریت کی درخواست کی بنیادی فیس 75 کینیڈین ڈالر مقرر کی گئی ہے لیکن قانونی پیچیدگیوں اور دستاویزات کی تیاری پر اٹھنے والے اخراجات ہزاروں ڈالر تک جا سکتے ہیں۔ اس عمل کی تکمیل میں اوسطاً 10 ماہ کا وقت لگ رہا ہے جبکہ ہزاروں درخواستیں پہلے ہی سے زیرِ التوا ہیں۔ اگرچہ کینیڈا کا معاشرہ تارکینِ وطن کے لیے ہمدردانہ جذبات رکھتا ہے لیکن بعض حلقوں میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ اس پالیسی سے پناہ گزینوں کے مقدمات کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here