فیضان محدث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غمگسار خانہ عشق کے اس تشکیلِ زیبا کی خریداری میں شریک ہونے کے لیے بے تاب تھے اور آپ نے انتہائی جذباتی انداز میں اشکبار ہو کر عرض کیا کہ سرکار میں اور بلال دونوں ہی آپ کے غلام اور دامنِ کرم کے پناہ گیر ہیں کیونکہ آپ سے الگ ہماری جان کی کوئی ہستی ہے اور نہ ہی مال کا کوئی وجود ہے اور جب سب کچھ حضور کا ہی ہے تو شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپ کی واحد آرزو یہ تھی کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو امیہ کی قید سے چھڑا کر سرکار کے قدموں میں نثار کر دیں۔ اگلے روز جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امیہ سے اس کے حبشی غلام کی خریداری کا ارادہ ظاہر کیا تو اس نے ضرورت مند ہونے کے باوجود آپ کی بات مان لی اور مناسب قیمت طے کرنے کا کہا جس پر آپ نے اسے منہ مانگی قیمت ادا کر دی۔ جب آپ خوشی میں جھومتے ہوئے حضرت بلال کو اپنے ہمراہ لے کر چلنے لگے تو امیہ نے طعن کرتے ہوئے کہا کہ ایک ذہین تاجر کی حیثیت سے تم عرب بھر میں مشہور ہو اور قیمت لگانے میں تمھارا کوئی حریف نہیں لیکن آج بلال کی خریداری میں تم مات کھا گئے ہو کیونکہ تم نے ایک ایسے ناکارہ اور بدصورت غلام کو سونے کے مول خریدا ہے جسے کوئی ہنر بھی نہیں آتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک معنی خیز تبسم کے ساتھ جواب دیا کہ خوبصورتی کا معیار ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا اور تم جسے عیب سمجھ رہے ہو وہی میرے نزدیک ہنر ہے کیونکہ بلال کو سونے کے مول خرید کر بھی میں شرمندہ ہوں کہ ان کی واجبی قیمت دونوں جہان سے زیادہ تھی اور جس رخِ زیبا کی ایک جھلک نے بلال کو عارف بنا دیا تھا وہ اب عالمِ اسلام کے خوبرو آقا بن چکے تھے۔
واقعہ معراج کی اس مبارک شب جب سارا عالم سلطانِ کونین کے خیر مقدم کے لیے چشم براہ تھا اور ملائکہ کے جھرمٹ میں سرکار کی سواری پہنچی تو قدسیوں کے بیڑے سلامی کے لیے حاضر تھے اور عرش کا پرچم سرنگون تھا۔ عالمِ ملکوت کا معائنہ فرماتے ہوئے جب آپ باغِ فردوس کی طرف بڑھے جہاں حور و غلماں صف بستہ کھڑے تھے تو جنت کی سیر کے دوران سرکار کی چشمِ اقدس ایک غمگین اور ملول حور پر پڑی جو ایک درخت کی ٹہنی تھامے رو رہی تھی۔ فردوس کے اس خوشگوار عالم میں رنج و غم کی یہ پرچھائیں دیکھ کر حضور نے جبرئیلِ امین کو اس کی وجہ معلوم کرنے کا حکم دیا جس پر اس حور نے بتایا کہ وہ خود سرکار سے بات کرنے کی خواہش مند ہے۔ اجازت ملنے پر اس نے عرض کیا کہ خدا نے اسے جنت کی حوروں میں حسن و جمال کی ملکہ بنایا ہے لیکن ایک بار اسے یہ خیال آیا کہ قیامت کے دن اسے کس بندہِ مقبول کے حوالے کیا جائے گا اور اسی آرزو میں اس نے رب العزت کی بارگاہ میں التجا کی کہ اسے اس کے رفیقِ آخرت کی ایک جھلک دکھائی جائے۔ حکمِ الہی پر جب اس نے سامنے رکھے آئینے میں دیکھا تو اس کا دل آرزوؤں کے جل جانے سے بیٹھ گیا کیونکہ اس کے سامنے ایک بدشکل سیاہ فام اور وحشت ناک چہرہ تھا جس کے ساتھ وہ اپنا نباہ ناممکن سمجھ رہی تھی۔ سرکار نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے فرمایا کہ تم نے آئینے میں اپنے جوڑے کا جو سراپا دیکھا ہے وہ میرے بلال کا ہے جو ایک عاشقِ صادق اور مومنِ وفا کیش ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ بلال جس نے محبت کی شیفتگی میں دونوں جہان سے منہ موڑ لیا ہے وہ فردوس کے کسی حکم کو خاطر میں نہیں لائے گا اور تم اپنی زیبائی پر مغرور نہ ہو کیونکہ جس دن بلال سامنے آئے گا تو ممکن ہے کہ وہ خود تمھیں ناپسند کر دے۔ یہ سن کر اس حور نے اپنی غلطی پر معذرت چاہی اور عرض کیا کہ اب اسے وہی سیاہ فام بلال پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے فیوض و برکات سے وافر حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔













