مشرق وسطیٰ کے حالات لمحہ بہ لمحہ ابتر ہوتے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں اسرائیل اور عرب ممالک میں شدید خوف کا عالم طاری ہے جبکہ لاکھوں ٹن گولہ بارود کی برسات کے باوجود ایرانی قوم کے حوصلے اب بھی بلند دکھائی دیتے ہیں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں سے بڑے پیمانے پر تباہی تو ہوئی لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں حاصل ہونے والی ایک رات کی فتح کے خمار میں ایران پر چڑھ دوڑے اور شاید وہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی افواج دنیا کی بہترین افواج تصور کی جاتی ہیں اور اسرائیل گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل امریکی صدور کو ایران پر حملے کے لیے اکساتا رہا ہے مگر بالآخر ٹرمپ اسرائیلی خوشامد کے جال میں پھنس کر ایران کو کم تر سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے۔ آج امریکہ سپر پاور ہونے کے باوجود ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہے جہاں اس کی دھونس اور اجارہ داری کا مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے کیونکہ اب وہ پہلے والا امریکہ نہیں رہا۔عرب ممالک کو اب اس تلخ حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ انہیں امریکہ پر اندھے بھروسے کے بجائے اپنا دفاع خود مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ قطر کے سابق وزیر خارجہ حماد بن خلیفہ کا موقف ہے کہ مسلمانوں کو اپنی حفاظت کے لیے خود ہی قدم اٹھانا ہوں گے۔ عالمی سطح پر اٹلی اور اسپین جیسے ممالک نے بھی امریکی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کی ہے اور اس جنگ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ان مشکل حالات میں پاکستان کی حکومت ایک پیچیدہ سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستانی قیادت ایک طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ کھڑی ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی تعلقات کو ترجیح دے رہی ہے اور اسی طرح حماس کے معاملے پر بھی ایک محتاط پالیسی اپنائی گئی ہے۔ خلیجی ریاستیں اس وقت تاریخ کی سب سے بڑی آزمائش سے گزر رہی ہیں جہاں امریکہ بظاہر بلند بانگ دعوے کر رہا ہے لیکن اندرونی طور پر منتوں اور مفاہمت کا راستہ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اپنی سبکی مٹانے کے لیے کیمیائی یا ایٹمی ہتھیاروں کا سہارا لے سکتا ہے کیونکہ ایرانی کلسٹر بموں نے اسرائیل پر لرزہ طاری کر رکھا ہے اور امریکہ کے ناقابل تسخیر ہونے کا تصور اب خاک میں مل چکا ہے۔ بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈے اور جدید ترین دفاعی نظام جن میں تھاڈ اور آئرن ڈوم شامل ہیں بری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایف پینتیس اور بی باون جیسے مہلک جنگی طیاروں کی تباہی سے امریکہ کو اب تک پچاس ارب ڈالر کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ ایران اس جنگ میں ایک فاتح کی حیثیت سے ابھر رہا ہے اور اب وہ ایٹمی صلاحیت کے حصول کی جانب مزید تیزی سے بڑھے گا جس نے اسرائیلی حکام کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ امریکہ کو ماضی میں ویتنام اور افغانستان میں جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اب وہی تاریخ ایران میں دہرائی جا رہی ہے جس سے امریکی معیشت اور اس کا اندرونی استحکام شدید متاثر ہوگا۔اسرائیل کی جانب سے لبنان اور ایران پر فاسفورس بموں کے استعمال کے جواب میں ایرانی دفاعی کارروائیوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ہے اور اب عمان کے سلطان قابوس سمیت دیگر علاقائی طاقتیں جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں۔ بھارت کا کردار اس پورے تنازع میں انتہائی منافقانہ رہا ہے جہاں نریندر مودی نے اسرائیل کی مکمل حمایت کر کے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ، بھارت اور اسرائیل نے مل کر خطے کے لیے جو جال بنا تھا اب وہ خود اس میں پھنستے ہوئے نظر آ رہے ہیں کیونکہ ان کی منصوبہ بندی پاکستان کو افغانستان کے ساتھ الجھانے اور عربوں کو ایران سے لڑوانے کی تھی جو ناکام ہو چکی ہے۔ امریکہ اب اس جنگ سے نکلنے کے لیے ایک ایسے محفوظ راستے کی تلاش میں ہے جہاں اس کی نام نہاد برتری کو ٹھیس نہ پہنچے اور وہ اپنے عوام کو فتح کا جھوٹا یقین دلا سکے لیکن ٹرمپ کی جنگ کے ذریعے امن لانے کی تھیوری خود امریکہ کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔
امریکی انتظامیہ اب اپنے پچاس ارب ڈالر کے نقصان کا ازالہ عرب ممالک کو اسلحہ بیچ کر کرنا چاہتی ہے اور اسی مقصد کے لیے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں پر ہونے والے حملوں کو ایران سے منسوب کیا گیا تاکہ خطے میں خوف پھیلا کر اپنی چوہدراہٹ قائم رکھی جا سکے۔ تاہم قطر کے سابق وزیراعظم کے مطابق عرب ممالک اب امریکہ کی اس چال کو سمجھ چکے ہیں اور وہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں کودنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایران نے خلیج میں موجود ان امریکی اڈوں کو چن چن کر نشانہ بنایا ہے جہاں سے اس پر حملے کیے جا رہے تھے اور ان جوابی کارروائیوں نے تل ابیب سے لے کر حیفہ تک اسرائیل کے دفاعی حصار کو پاش پاش کر دیا ہے۔ جنگ کی اس آگ نے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی کو بھی شدید متاثر کیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے سمندر برد انٹرنیٹ کیبلز کو کاٹنے کی دھمکیاں بینکاری اور تجارتی نظام کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
ٹرمپ کا ایران میں نظام کی تبدیلی اور عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی تقریر سے بھی اس مایوسی کی جھلک ملتی ہے کہ سعودی عرب اب امریکہ کے دفاعی مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ خلیجی اڈوں کو عربوں کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ صرف اسرائیل کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے اور ان ہی اڈوں سے مختلف مسلم ممالک پر میزائل داغے گئے تاکہ مسلمانوں کے درمیان خونریزی کا بازار گرم رہے۔ پاکستان نے اس تمام صورتحال میں اپنی قیادت کی بصیرت سے خود کو ایک بڑی آزمائش سے محفوظ رکھا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں کا پاس رکھتے ہوئے بھی ایران کے ساتھ تصادم سے گریز کیا ہے۔ آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دشمن کی تمام سازشیں دم توڑ رہی ہیں اور ایران کے اندرونی غداروں سمیت پاکستان میں موجود دہشت گرد عناصر کا صفایا کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔












