اکاڈمی ایوارڈ سے جنگ تک گھپلے!! !

0
16
کامل احمر

پچھلے اتوار کیلیفورنیا میں 98 ویں اکاڈمی ایوارڈ کا انعقاد تھا لیکن ایوارڈ اتنے اُلجھے ہوئے تھے کہ ترتیب درست نہ تھی۔ حالانکہ CONAN OBRIEN میزبان تھے اسٹیج سے لے کر ایوارڈز تک سب پھیکا پھیکا تھا اسٹیج دیکھ کر لگتا تھا پیسے کی کمی ہے چلومان لیا لیکن لیکن پیشکش میں کوئی ربط نہیں تھا۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ ایوارڈ JESSIE BUCKLEY کو ملا ہے یا اس کی ماں ہوسکتا ہے ہماری انگزیزی کمزور ہو۔ جیسی بکلے نے یہ ایوارڈ فلم HAMNE7 میں لیا تھا جیسے ہم اداکاری کی شان میں گستاخی کہینگے۔ سینما سے متعلق ہر چیز بدل گئی ہے کہ فلم دیکھنے کو دل نہیں چاہتا۔ DEER HUNTERI اور THE GODFATHER اور مہمانوں میں شامل کوئی بھی نامی گرامی نہیں تھا۔ اس ایوارڈز کی کچھ نشیلی چیزیں یہ تھیں کہ پہلی بار کوئی فلم SINNERS کو پہلی بار 16 ایوارڈز کے لئے نامزد کردیا اور صرف چار کیٹگری میں ایوارڈز ملے۔ بہترین لیڈ ایکٹر میںSINNER کے MiCHAL S JORDEN کو ڈبل رول کے لئے دیا گیا۔ یہ کہتے چلیں کہ اب تک جن جن سیاہ افریقن کو ایوارڈ ملے ہیں وہ اس کے حقدار تھے۔ سڈنی پویٹر، ڈینزل واشنگٹن، جیمی فاکس، فارسٹ وہٹمیکر اور ولی اسمتھ، سوالے ولی اسمتھ کے باقی سب بڑے اداکار تھے جو تاریخ لکھ کر گئے اور سب سے نمایاں سڈنی پوٹیٹر، ان کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ اداکاری ایک صلاحیت ہے اور کسی ایک کی میراث نہیں۔ بعض دفعہ کئی موقعوں پر ایوارڈ غلط لوگوں کو دیئے گئے اور جو حقدار تھے ان کو ٹرفا دیا۔ سب سے بڑی مثال پیٹراوٹول کی ہے جیسے 1962 میں نامزد کیا گیا تھا اچھے اداکار کے لئے اور دے کسی اور کو دیا۔ اب ہم ان اکاڈی کے ممبران سے بحث نہیں کرسکتے۔ پیٹراوٹول کو آٹھ بار نامزد کیا تھا لیکن دیا نہیں گیا۔ یہ گھپلے والی بات ہے اور اس کے بعد 1984 میں آئی فلم AMADEUS میں TOM HULCE کی سپر اداکاری پر ایک بوڑھے اداکار کو ترجیح دی۔ اور یہ ناانصافی تھی۔ اور بھی کئی قصّے ہیں لیکن وہ لکھے ہیں جو آپ جانتے ہیں۔ اس دفعہ کا اکاڈی ایوارڈ شو بے مزہ تھا اس میں کوئی شبہ نہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے ہر جگہ انعام دینے میں جو چاپلوسی ہو رہی ہے اس کا دوسرا شکار نوبل پیس پرائز ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے کہا اور ہم نے مان لیا۔ لٹریچر میں بھی مذاق بن چکا ہے کہ سمجھ سے باہر ہے لگتا ہے یہ سب سفارشوں پر ہورہا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے اور اب جنگیں بھی چھپ چھپا کر لڑی جاتی ہے کس نے میزائل پھینکا اور کس کا نیرال تھا کچھ نہیں معلوم سب گڑ بڑ گھٹا لا۔ امریکہ کیلئے مشہور ہے کہ اُسے جنگ کرتے رہنا ہے تاکہ ہتھیار بنانے کی فیکٹریز چلی رہیں شیر بڑھتے رہیں بے گناہ لوگوں کو مارنا جاری ہے۔ غزہ میں 80 ہزار اور ایران میں ہزاروں کے علاوہ 170 اسکول کی کم سن بچیاں اور شرم بھی نہیں آتی دماغ استعمال نہیں کرتے جو اسرائیل کہتا ہے اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں سارے ملک خاموش بیٹھے ہیں یہ وہ ہی ملک ہیں جو انسانی حقوق کا شور مچاتے رہے ہیں سوائے ایک ملک کے جو فرانس ہے اس نے مزید احتجاج کیا اور اسرائیل سے اپنا ایمبسیڈر بلوالیا۔ دوسرے بڑے اداکار جو اداکار کے علاوہ ایک انسان بھی ہیں ان کا بیان ہے کہ حکومت خیانت میں مبتلا ہے اور دلدل میں پھنسی ہوئی حکومت کا ملبہ ہے ہمارا کہنا ہے جب STATE OF UNION میں کہنے کو عوام کے لئے خوشخبری نہیں تو کیوں شور مچاتے ہیں شکر ہے کہ پچھلے کئی دنوں سے وہ وہائٹ ہائوس یا مارا لاگو سے نکلے نہیں اور بولے بھی نہیں یہاں رہتے 54 سال ہونے کو آئے سوائے دو صدور کے ٹرمپ اور بائیڈین کے جنہوں نے صدارت کا بھرم نہیں رکھا۔ لگتا ہے یہ کوئی فلم بنا رہے ہیں جس کے ہدایت کار، اداکار سکرین پلے رائٹر خود ہی ہیں اور اپنے ساتھ انہوں نے دو تین ناتجربہ کار لوگوں کو رکھا ہوا ہے۔ جن کی جرات نہیں کہ وہ صدر ٹرمپ کو مشورہ دے سکیں۔ اگر امریکہ کو ہر موذ کے بند ہونے کا علم نہیں تھا تو کس بات کا علم تھا یاحبان کر رکے خاموش بیٹھے ہیں کہ بند ہونے سے آئل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ کچھ بھی کہیں اسرائیل اپنی چال چل گیا ہے جو آخری ہے!!!۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here