ٹرمپ کی ایران کیخلاف عسکری مہم، سیاسی و معاشی خودکشی ثابت ہوگی!!!

0
15

ٹرمپ کی ایران کیخلاف عسکری مہم، سیاسی و معاشی خودکشی ثابت ہوگی!!!

تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ عظیم سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اپنی بے جا وسعت اور غیر ضروری جنگوں میں الجھ کر اندرونی طور پر کھوکھلی ہونے سے زیادہ ٹوٹتی ہیں۔ موجودہ دور میں مشرق وسطیٰ کے حالات اور ایران کیخلاف شروع ہونیوالی حالیہ جنگ اس قدیم بیانیے کی ایک زندہ مثال بن کر سامنے آئی ہے جہاں دنیا کی واحد سپر پاور کہلانے والی ریاست ایک ایسی دلدل میں قدم رکھ چکی ہے جو اسے نہ صرف معاشی طور پر دیوالیہ کر رہی ہے بلکہ اس کی عالمی ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران امریکی قیادت اس وہم میں مبتلا رہی کہ وہ خطے کے معاشروں کی نوک پلک سنوارنے اور وہاں اپنی مرضی کے سیاسی ڈھانچے کھڑے کرنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ آج واشنگٹن ایک بار پھر اسی غلطی کو دہرا رہا ہے جس نے ماضی میں برطانوی سلطنت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا کام کیا تھا۔ انیسویں صدی کے اواخر سے لے کر بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں تک برطانیہ نے ایشیا اور افریقہ کے دور دراز علاقوں میں بدامنی، ناپسندیدہ حکومتوں اور طاقت کے خلا کو پر کرنے کے نام پر اپنی فوجیں جھونک دیں لیکن ان مہمات کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ لندن اپنی تمام تر توجہ اور توانائی ان علاقوں کے مقامی بحرانوں میں ضائع کرتا رہا اور رفتہ رفتہ اس کا اپنا بنیادی ڈھانچہ اور عالمی اثر و رسوخ زوال کا شکار ہو گیا۔ایران کے خلاف جاری یہ جنگ جس کی روزانہ کی لاگت تقریباً دو سو بلین ڈالرز سے تجاوز کر چکی ہے، محض ایک عسکری مہم نہیں بلکہ ایک معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ آپریشن ایپک فیوری کے نام سے منسوب اس معرکے نے ابتدائی سو گھنٹوں میں ہی اربوں ڈالر ہڑپ کر لیے اور اب یہ اخراجات امریکی معیشت پر ایک ناقابل برداشت بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ اس جنگ میں جدید ترین فضائی اور بحری کارروائیوں پر اٹھنے والے اخراجات کے علاوہ سب سے بڑا نقصان اس قیمتی گولہ بارود کا ضیاع ہے جو برسوں کی محنت سے تیار کیا گیا تھا۔ اگر یہ مداخلت کسی حد تک کامیاب بھی ہو جائے تب بھی امریکہ کو اس ملک کے مستقبل کے ساتھ اس قدر گہرائی سے جڑنا پڑے گا کہ اسے اگلی کئی دہائیاں اسی خطے کی نذر کرنی ہوں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک عظیم طاقت کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں اور وقت اس طرح کے مہم جوئی میں صرف کرنا سودمند ہے یا یہ اس کے زوال کا نقطہ آغاز ہے۔اس تمام تر صورتحال میں یوکرین جو خود طویل عرصے سے ان ایرانی ساختہ ہتھیاروں کا سامنا کر رہا ہے، اب اپنے تجربات کو عالمی منڈی میں ایک قیمتی اثاثے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یوکرینی ماہرین نے ان ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی جو مہارت حاصل کی ہے وہ اب خلیجی ریاستوں اور امریکہ کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ یوکرین کی جانب سے فراہم کردہ اس عسکری مہارت کے عوض اسے نہ صرف امریکہ کی طرف سے اضافی امداد مل رہی ہے بلکہ خلیجی ریاستوں سے کثیر زر مبادلہ حاصل کرنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ اس تعاون کے پیچھے یوکرین کے اپنے مفادات بھی وابستہ ہیں کیونکہ اسے اپنی بقا کے لیے نہ صرف جدید ہتھیاروں کی ضرورت ہے بلکہ اپنی تباہ حال معیشت کو سہارا دینے کے لیے دولت مند خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری بھی درکار ہے۔ یہ ایک ایسا لین دین ہے جس میں ہر فریق اپنا فائدہ دیکھ رہا ہے لیکن اس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ایران کے خلاف اس مہم جوئی نے امریکی سیاست کے اندرونی تضادات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف عوام سے معاشی خوشحالی کے وعدے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف اربوں ڈالر روزانہ کی بنیاد پر سمندر پار جنگوں میں جھونک دیے جاتے ہیں۔ یہ وہی سامراجی جال ہے جس میں پھنس کر ماضی کی بڑی طاقتیں اپنی وقعت کھو بیٹھی تھیں۔ جب کوئی ریاست اپنے مرکز کو نظر انداز کر کے سرحدوں سے دور کے معاملات میں ضرورت سے زیادہ الجھ جاتی ہے تو اس کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی یہ نئی جنگ امریکہ کے لیے ایک ایسا امتحان ثابت ہو رہی ہے جس کا نتیجہ شاید اس کی توقعات سے بالکل مختلف ہو۔ اگر تزویراتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ جنگ تزویراتی غلطیوں کا ایک تسلسل ہے جہاں طاقت کے زعم میں زمینی حقائق کو فراموش کر دیا گیا۔اس وقت دنیا بھر کے دانشور اور تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی ملک کی طاقت کا سرچشمہ اس کی معاشی استحکام اور اندرونی وحدت میں ہوتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنی سرحدوں سے ہزاروں میل دور کسی ملک کی تقدیر بدلنے نکلتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی تقدیر کو خطرے میں ڈال رہا ہوتا ہے۔ ایران کے خلاف اس جنگ نے نہ صرف توانائی کے عالمی بحران کو جنم دیا ہے بلکہ بین الاقوامی اتحادوں میں بھی دراڑیں ڈال دی ہیں۔ روس اور چین جیسے ممالک اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں جبکہ امریکہ اس دلدل میں مزید دھنستا جا رہا ہے۔ یوکرین کی جانب سے فراہم کردہ ڈرون شکن نظام شاید عارضی طور پر کچھ کامیابی دلا دے لیکن طویل مدتی بنیادوں پر یہ جنگ صرف اور صرف وسائل کا زیاں ثابت ہو گی۔
مستقبل کے مؤرخ جب اس دور کی تاریخ لکھیں گے تو وہ شاید اسے ایک ایسی سلطنت کے قصے کے طور پر بیان کریں گے جس نے اپنے عروج کے نشے میں تاریخ کے اسباق کو فراموش کر دیا تھا۔ ایران کے خلاف اس محاذ آرائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تزویراتی گہرائی کا فقدان اور محض فوجی طاقت پر بھروسہ کرنا کسی بھی ریاست کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی یہ جنگ صرف دو ممالک کا ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی نظام کی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور اس سامراجی جال سے نکلنے کی کوشش کرے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ اگر وہ اپنی تمام تر توجہ اور وسائل اسی طرح ضائع کرتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب اسے اپنی اس عظیم الشان عمارت کے گرنے کا تماشا خود دیکھنا پڑے گا جو اس نے دہائیوں کی محنت سے کھڑی کی تھی۔ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو معاف نہیں کرتی جو اس کے اشاروں کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں اور موجودہ صورتحال ایک ایسا ہی بڑا اشارہ ہے جسے سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here