عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے توازن میں رونما ہونے والی تبدیلیاں انسانیت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بڑی طاقتوں نے اپنے تزویراتی مفادات کے تحفظ کی خاطر عالمی نظام کو اپنی مرضی کے تابع کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر اس طرزِ عمل نے دنیا کو استحکام بخشنے کے بجائے بے یقینی اور مسلسل تنازعات کی آگ میں جھونک دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر کے عالمی حالات اس حقیقت کو واشگاف کر رہے ہیں کہ دنیا کو اب کسی ایک طاقت کے زیرِ اثر چلانے کے بجائے ایک متوازن اور مشترکہ نظام کی اشد ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک عالمی فورم پر خطاب کے دوران خبردار کیا کہ پرانے عالمی نظام کو دوبارہ مسلط کرنے کی کوئی بھی کوشش تباہ کن ثابت ہوگی۔ ان کا یہ موقف دراصل اس عالمی سچائی کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا اب یک قطبی نظام کی گرفت کو مزید قبول کرنے کے لیے تیار نہیں رہی۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد چند ممالک نے یہ گمان کر لیا تھا کہ تمام عالمی فیصلے محض ان کے مفادات کے گرد گھومیں گے لیکن وقت کی بدلتی رفتار نے ثابت کر دیا کہ ایسی حکمت عملی کبھی دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔ آج کی دنیا میں معیشت، سیاست اور سلامتی کے رشتے اس قدر پیوست ہو چکے ہیں کہ کسی بھی ایک خطے کا بحران پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ چاہے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلے ہوں، یورپ کی کشیدگی ہو یا ایشیا میں طاقت کی نئی صف بندیاں، ان کے براہِ راست اثرات عالمی معیشت اور امن و استحکام پر فوراً ظاہر ہوتے ہیں۔ توانائی کے بڑھتے نرخ، عالمی تجارت میں حائل رکاوٹیں اور کمر توڑ مہنگائی درحقیقت اسی عالمی عدم استحکام کے شاخسانے ہیں۔ اگر بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی جنگ کے لیے چھوٹے ممالک کو محض میدانِ جنگ بناتی رہیں گی تو اس کا خمیازہ بالآخر ان بڑی طاقتوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ طاقت کے زعم میں لیے گئے فیصلے ہمیشہ الٹا اثر دکھاتے ہیں۔ ماضی کی عالمی جنگیں اس کا بڑا ثبوت ہیں جہاں طاقت کے حصول کی اندھی دوڑ نے نہ صرف لاکھوں انسانوں کے چراغ گل کیے بلکہ پوری دنیا کو معاشی اور سماجی طور پر دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔موجودہ دور کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ عالمی سیاست کی بنیاد تصادم کے بجائے باہمی تعاون پر رکھی جائے۔ اگرچہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کا قیام اسی مقصد کے لیے ہوا تھا کہ ریاستیں اپنے اختلافات کو میز پر بیٹھ کر مذاکرات سے حل کریں، لیکن جب بڑی طاقتیں خود ان اداروں کے فیصلوں اور اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں تو پورا عالمی ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ آج کے بدلتے حالات عالمی رہنماؤں سے حقیقت پسندانہ پالیسیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ دنیا کا نقشہ اب تبدیل ہو چکا ہے اور نئی معاشی قوتیں پوری توانائی کے ساتھ ابھر رہی ہیں۔ ایسے میں کسی ایک ملک یا بلاک کی بالادستی کو برقرار رکھنے کی ضد مزید خونی تنازعات کو جنم دے سکتی ہے، لہٰذا دانشوری کا تقاضا یہی ہے کہ عالمی نظام کو شراکت داری اور باہمی احترام کے اصولوں پر نئے سرے سے استوار کیا جائے۔اگر طاقتور ممالک نے دنیا کو مسلسل عدم استحکام کی سمت دھکیلنے کا سلسلہ ترک نہ کیا تو اس کے نتائج ہر ایک کے لیے ہولناک ہوں گے، جس سے نہ صرف عالمی معیشت مفلوج ہوگی بلکہ انسانی ترقی کا سفر بھی رک جائے گا۔ اس کے برعکس اگر عالمی قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کو انفرادی مقاصد پر ترجیح دے تو دنیا ایک پرامن اور مستحکم دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں کسی ایک ملک کی خوشحالی کو دوسرے ممالک سے الگ تھلگ رہ کر یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ عالمی طاقتیں اپنی فرسودہ پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھیں جو انصاف، توازن اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں پر قائم ہو، کیونکہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو دنیا کو بڑی تباہی سے بچا کر امن اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتا ہے۔















