انسانیت کی خدمت اسلام کی اصل روح!!!

0
17

انسانیت کی اصل روح خدمت خلق اور بے لوث محبت میں پنہاں ہے جس کا عملی مظاہرہ معاشرے کے ان گمنام گوشوں میں نظر آتا ہے جہاں کاروبار نہیں بلکہ جذبہ صادق غالب ہوتا ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ضعیف اور کمزور لوگ ڈھونڈنے میں میری مدد کرو کیونکہ تمہارے رزق اور نصرت کا وسیلہ یہی بے بس لوگ بنتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسان تو ہر بستی اور ہر گلی میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کے جوہر کہیں کہیں جنم لیتے ہیں۔ عبادت کی رسائی شاید وہاں تک نہ ہو سکے جہاں تک کسی غریب اور ضرورت مند کی خاموش خدمت پہنچ جاتی ہے کیونکہ انسانی چہرے پر حقیقی اطمینان اور ابدی خوشی کا ظہور دوسروں کی دستگیری سے ہی ممکن ہے۔اسی تناظر میں ایک چشم دید واقعہ انسانیت کی روشن مثال بن کر سامنے آتا ہے جب ایک معصوم بچہ محض دس روپے تھامے پلاؤ کی ایک ریڑھی پر پہنچا۔ ریڑھی پر موجود کارندے نے جب اسے خالی ہاتھ لوٹانا چاہا تو قریب کھڑے ایک صاحبِ دل نے مداخلت کرنی چاہی مگر اس سے قبل ہی ریڑھی کا مالک خود وہاں پہنچ گیا۔ اس نے نہ صرف وہ قلیل رقم قبول کی بلکہ نہایت شفقت کے ساتھ بچے کو چاول فراہم کیے۔ اس حیرت انگیز رویے پر جب ان سے سوال کیا گیا کہ موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے دور میں دس روپے کی بھلا کیا حیثیت ہے تو ان کا جواب کسی تازیانے سے کم نہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے لیے مہنگائی کے کوئی معنی نہیں ہوتے کیونکہ بچے تو سانجھے ہوتے ہیں۔وہ درویش صفت انسان کہنے لگا کہ پانچ روپے کی رقم تو شاپر اور سلاد کی قیمت بھی پوری نہیں کرتی لیکن ہر جگہ دنیاوی منافع تلاش کرنا سودمندی نہیں۔ اس ریڑھی والے نے انکشاف کیا کہ وہ دیگ میں چکن کی چھوٹی بوٹیاں محض ان غریب بچوں کے لیے ڈالتا ہے جو پانچ یا دس روپے لے کر آتے ہیں۔ جب وہ بچے چاول میں بوٹی دیکھ کر مسکراتے ہیں تو اس دکاندار کو اپنی نمازوں کی قبولیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ دورِ حاضر میں خوشحال طبقے کے بچے ایسی معمولی رقم لے کر نہیں نکلتے بلکہ یہ انہی غریبوں کے لعل ہوتے ہیں جن کے چہروں کی مسکراہٹ کسی بڑے روحانی درس سے کم نہیں ہوتی۔یہی وہ خالص جذبہ اور غریبوں کا احساس ہے جو کسی انسان کے چہرے پر مستقل سکون اور روحانیت کا نور بکھیر دیتا ہے۔ اگر ہر سرمایہ کاری صرف دنیاوی نفع و نقصان کے ترازو میں تولی جائے گی تو آخرت کے پلڑے میں کچھ باقی نہ رہے گا۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ کچھ ایسی جگہوں پر بھی سرمایہ لگایا جائے جہاں کا منافع اس جہان میں ملے جہاں کوئی کسی کا پرسانِ حال نہیں ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ اجنبیوں کے اس ہجوم میں قد آور انسان وہی ہے جو مٹی کی مورتوں کے اس میلے میں انسانیت کی رمق باقی رکھے ہوئے ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here