نہ ان کی ہار نئی …نہ اپنی جیت نئی !!!

0
13

گزشتہ صدی کے وسط میں فلسطین کی پاک سرزمین پر مغربی طاقتوں کے بزور شمشیر قبضے نے جہاں اسرائیل کی ناجائز ریاست کو جنم دیا وہیں ایک عجب نظریاتی کشمکش بھی پیدا کی۔ ایک جانب مغربی صیہونیت نے سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے غریب کے معاشی استحصال کا آغاز کیا تو دوسری طرف مارکس کی اشتراکیت نے کمیونزم کے لبادے میں بندہ مزدور کو جدید دور کا غلام بنانا شروع کر دیا۔ اگرچہ انسانیت کی فلاح کے لیے قرآن کا الہامی دستور موجود تھا مگر اسے عام آدمی کے فہم تک پہنچانے والے بدیع الزماں سعید نورسی، حسن البنا اور سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے مصلحین ابھی اس درجے میں مقبول نہیں ہوئے تھے کہ عوامی رخ متعین کر سکیں۔ اسی خلا کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطین کی تحریک آزادی کا ایک بڑا حصہ مغرب کا مقابلہ کرنے کے لیے روسی اشتراکیت کے سرخ ترقی پسند نظریات کا حامی بن گیا۔ جب فیض احمد فیض کو ملکی مقتدرہ کی کرم فرمائیوں کے باعث جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تو وہ فلسطینیوں کے اس وقت کے مرکز بیروت جا پہنچے جہاں یاسر عرفات کے ساتھ ان کی دوستی تاریخ کا حصہ بنی۔
متحدہ برصغیر کے بیشتر رہنما اپنے مغربی آقاؤں سے نفرت کی بنا پر فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے سخت خلاف تھے اور اس دور کے تمام صاحب الرائے دانشور بھی ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے حامی نظر آتے تھے۔ مولانا محمد علی جوہر، جواہر لال نہرو اور قائد اعظم محمد علی جناح نے فلسطین کی حمایت میں جن دور رس ریاستی پالیسیوں کی بنیاد رکھی، تقسیم ہند کے بعد بھی کوئی انہیں آسانی سے تبدیل نہ کر سکا اور قوی امید ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے پر یہ پالیسیاں اپنے اصل رخ پر واپس آ جائیں گی۔ آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور لبنان کی ریاستیں براہ راست امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا نشانہ بنی ہوئی ہیں کیونکہ صیہونی ریاست کے قیام کی راہ میں آخری بڑی رکاوٹ ایران ہی ہے۔ اس رکاوٹ کو ہٹانے کے لیے ایک ایسی ناپاک جنگ چھیڑ دی گئی ہے جس کا مقصد بلاد شام اور گرد و نواح میں امریکی مفادات کو ترجیح دے کر قدیم بائیبلی روایات کو سچا ثابت کرنا ہے مگر سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا ہے کہ کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر طاقتور نظر آنے والی قوتیں پہلے دن ہی یہ جنگ ہار گئیں۔ فیض نے اسی صورتحال کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے ہمیشہ آگ میں پھول کھلائے ہیں، اس لیے نہ ان کی ہار نئی ہے اور نہ ہماری جیت کوئی انوکھا واقعہ ہے۔فلسطینیوں کے حق میں لبنان اور ایران کے اتحاد کی تاریخ بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ستمبر انیس سو بیاسی میں لبنان کے علاقوں صبرا اور شتیلا میں واقع فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں پر الکتائب نامی مسیحی ملیشیا نے اسرائیلی فوج کی سرپرستی میں وہ ہولناک قتل عام کیا جس کی تفصیلات لکھنا بھی ممکن نہیں۔ دنیا اگرچہ ان نہتے فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم کو بھلا بیٹھی لیکن اسلامی جمہوریہ ایران نے لبنان میں حزب اللہ جیسی تنظیم کی آبیاری کی جو اپنے محدود وسائل کے باوجود ہمیشہ فلسطینیوں کی پشت پناہ رہی۔ آج تہران اور بیروت کے کھنڈرات مل کر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ دشمن نے اگر ایک فلسطین برباد کیا تو لہو کے ان زخموں نے کئی نئے فلسطین آباد کر دئیے ہیں۔ فیض احمد کے الفاظ میں!
تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد
میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد
موجودہ حالات میں امریکہ نے اپنے پسندیدہ حلیف کے ساتھ مل کر نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے معاشی نظام کو داؤ پر لگا دیا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے یہ ترقی یافتہ ممالک بدترین جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دعا ہے کہ باری تعالیٰ انسانیت کو مزید آزمائشوں سے محفوظ رکھے اور ظالم کی رسی کو دراز نہ ہونے دے۔ آخر میں، فیض کی انقلابی شاعری پیشِ خدمت ہے۔
دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت
چلے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے
اے ظلم کے ماتو لب کھولو چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا کچھ دور تو نالے جائیں گے
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here