امام ہو تو ایسا۔ عموماً ہم دو تین پارے تراویح میں سنا کر اپنے تئیں اس گمان میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ گویا بہت بڑی نیکی کما لی اور دین کا حق ادا کر دیا۔ کبھی محراب میں خوش الحانی سے قرآن سنا کر یا منبر پر پْراثر خطاب کر کے ہمارا دل گواہی دے دیتا ہے کہ بس اب ہم کامیاب ہیں۔ اس کے بعد اسی عمل کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا کی نذر کر دی جاتی ہے تاکہ اسے توش آخرت کے طور پر پیش کیا جا سکے لیکن آئیے آج قافل? صحابہ سے بچھڑے اس امام کی داستان پڑھتے ہیں جس کے سامنے حرمین کے عابد کی عبادت بھی ہیچ محسوس ہوتی ہے۔ وہ محض مصلّے کا امام نہ تھا بلکہ تراویح کے ختم اور منبر کی خطابت کے ساتھ ساتھ میدانِ کارزار کا شہسوار بھی تھا جس کے سینے میں قرآن اور لہجے میں غیرت رچی بسی تھی۔یہ تذکرہ ہے حافظِ قرآن نعیم یوسف الدغمة کا جس کے متعلق عربی ذرائع ابلاغ نے ان الفاظ کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا کہ یہ ایک اساطیری منظر ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو پہلی نظر میں ناقابلِ یقین لگتا ہے کیونکہ اس طرح کی مثالیں صرف قرونِ اولیٰ میں ہی دیکھنے کو ملتی تھیں۔ مارچ 2024 میں ایک مختصر ویڈیو منظرِ عام پر آئی جو ایک اسرائیلی فوجی کے ہیلمٹ پر نصب کیمرے سے محفوظ ہوئی تھی اور اسے خود اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے جاری کیا تھا۔ اس ویڈیو میں ایک رہائشی عمارت کے اندر شدید جھڑپ دکھائی دیتی ہے جہاں اسرائیلی فوج کی جفعاتی بریگیڈ کے اہلکار مکمل اسلحہ اور جدید ساز و سامان کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ویڈیو کا دورانیہ صرف 45 سیکنڈ ہے مگر ان لمحوں میں پیش آنے والے واقعات حیران کن ہیں کیونکہ اچانک سیڑھیوں سے ایک زخمی سپاہی لڑھکتا ہوا نیچے گرتا ہے اور چیخ و پکار بلند ہو جاتی ہے۔ سپاہی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے چوہوں کی طرح جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے دکھائی دیتے ہیں جن میں سے کوئی زمین پر گر جاتا ہے تو کوئی پیٹ کے بل رینگنے لگتا ہے۔ وہاں موجود فوجیوں کی ترتیب بکھر جاتی ہے اور ان کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ ابتدا میں سب نے یہی سمجھا تھا کہ یہ مقابلہ کئی مزاحمت کاروں کے خلاف ہے مگر بعد میں انکشاف ہوا کہ اس کمین گاہ میں ان کا سامنا صرف ایک تنہا شخص سے تھا جو شیر کا بچہ نعیم یوسف الدغمة تھا۔وہ ایک حافظِ قرآن اور مسجد کا امام تھا جس نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں رات کو تراویح میں قرآن سنایا اور دن میں جہادِ مقدس جیسے افضل ترین عمل میں مصروف رہا۔ جنوبی خانیونس کے علاقے عبسان الجد?دة کا یہ 27 سالہ رہائشی نہایت نرم خو اور باوقار نوجوان تھا جس کی ایک پرانی تصویر اس کی علمی وجاہت کی گواہی دیتی ہے مگر جب آزمائش کا وقت آیا تو وہی شخص دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا۔ یہی وہ امام ہے جس پر عرب و عجم کو فخر کرنا چاہیے کیونکہ اس نے قرآن کو صرف حفظ نہیں کیا بلکہ اسے عملی طور پر جی کر دکھایا اور اپنے الفاظ کے بجائے اپنے خون سے تقریر کی۔مرکزِ اطلاعاتِ فلسطین کی رپورٹ کے مطابق نعیم نے عمارت کے اندر ایک ایسی گھات ترتیب دی تھی کہ جیسے ہی فوجی دستہ داخل ہوا اس نے نہایت قریب سے یعنی صفر کے فاصلے سے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں دشمن کے متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ اس مقابلے میں سب سے نمایاں چیز وہ دہشت تھی جو تربیت یافتہ فوجی دستے کے چہروں پر عیاں تھی اسی لیے سوشل میڈیا پر اسے دشمن کو خوفزدہ کرنے والا قرار دیا گیا۔ کسی نے اسے طاقت کے بجائے ارادے کا توازن کہا تو کسی نے اسے قرآنی آیات کی عملی تفسیر قرار دیا لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایسی جھڑپیں جنگ کے انتہائی پیچیدہ اور خونی باب کا حصہ ہوتی ہیں۔اس شدید مقابلے کے دوران نعیم الدغمة شہادت کے رتبے پر فائز ہو کر ایک نئی زندگی میں داخل ہو گیا اور اس کی شہادت کے سات ماہ بعد اس کے ہاں ایک بیٹی کی ولادت ہوئی جس نے اس دنیا میں قدم رکھا تو اس کے باپ کی پہچان پہلے ہی ایک عظیم داستان بن چکی تھی۔ ہم عام طور پر امامت کو صرف محراب و منبر تک محدود سمجھتے ہیں لیکن غزہ کی سرزمین دنیا کو ایسے ائمہ سے روشناس کرا رہی ہے جو مصلّے سے اٹھ کر میدانِ عمل میں بھی صف بندی کرتے ہیں۔ نعیم الدغمة کی یہ داستان محض ایک جھڑپ کا بیان نہیں بلکہ اس سوال کا آئینہ ہے کہ کیا امامت صرف الفاظ کی رہنمائی ہے یا یہ عملی کردار کی قیادت کا نام بھی ہے۔ بلاشبہ امام ہو تو ایسا ہو۔













