تہران جو بن جائے مشرق کا جنیوا!!!

0
14
سردار محمد نصراللہ

قارئینِ کرام اور محبانِ وطن!
یہ انسانی فطرت رہی ہے کہ انسان کچھ اور سوچتا ہے جبکہ مشیتِ ایزدی کا فیصلہ کچھ اور ہوتا ہے۔ امریکی صدر جو ان دنوں خود کو سلطنتِ روما کا وارث تصور کر رہے ہیں اور اسرائیلی وزیرِ اعظم جو فرعونی طرزِ عمل اپنائے ہوئے ہیں، ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے مذموم منصوبے بنائے بیٹھے تھے۔ وہ یہ حقیقت فراموش کر گئے کہ اصل طاقت و اختیار صرف خدائے برتر کے پاس ہے۔ زمین پر بیٹھ کر صبح و شام سازشیں کرنے والے یہ بھول گئے کہ حتمی ارادہ اوپر والا ہی کرتا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا گمان تھا کہ وہ ایرانی حکومت کو پلک جھپکتے ہی لپیٹ دیں گے لیکن وہ اس جذبہ شہادت سے ناواقف تھے جو کسی بھی زمینی بلا سے نہیں ڈرتا۔آج ایران پر ان جارح قوتوں کی یلغار تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور وہ نہ صرف استعماری طاقتوں کے جنگی جنون کو خاک میں ملا رہا ہے بلکہ ان ممالک کو بھی سبق سکھا رہا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔ یہ وہ نام نہاد اسلامی ریاستیں ہیں جنہوں نے اللہ کے بجائے امریکہ پر بھروسہ کیا، حالانکہ غیر کے بازوؤں پر بھروسہ کرنے والوں کو ایران نے دکھا دیا ہے کہ جنگیں اپنے زورِ بازو سے لڑی جاتی ہیں۔ ایران نے نہ صرف ان کا جنگی غرور توڑا بلکہ ان کی معاشی بنیادیں بھی ہلا کر رکھ دی ہیں۔ آج جب پوری دنیا کا دارومدار تیل پر ہے، ایران نے آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت کے ذریعے مغرب اور مشرق دونوں کو اپنی تیل کی پالیسی سے پریشان کر دیا ہے۔قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ جو طاقتیں پوری دنیا کو اپنی جاگیر سمجھتی تھیں، آج وہ اپنی بقا کے لیے یورپی ممالک اور یہاں تک کہ چین اور روس کے سامنے دستِ سوال دراز کر رہی ہیں مگر وہاں سے بھی انہیں صاف انکار مل رہا ہے۔ دنیا کا یہ ابدی اصول ہے کہ لوگ ہمیشہ بہادروں کا ساتھ دیتے ہیں، غاصبوں کا نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکیم الامت علامہ اقبال کا وہ خواب اب شرمندہ تعبیر ہونے والا ہے جس میں انہوں نے تہران کو مشرق کا جنیوا بنتے دیکھا تھا۔ ایران کی اس استقامت نے ثابت کر دیا ہے کہ کامیابی کے لیے ایمان ہی کافی ہے۔میرا ایک دوست امریکی میڈیا کی خبروں سے متاثر ہو کر پریشان تھا کہ شاید ایران کا خاتمہ قریب ہے لیکن اسے حقیقت تب معلوم ہوئی جب اس نے آزاد ذرائع کا رخ کیا۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ ایران نے اپنی کم مائیگی کے باوجود جس دلیری سے مقابلہ کیا وہ بے مثال ہے۔ دوسری جانب ہمارے اپنے مصلحت پسند حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کل تک ٹرمپ کو امن کے ایوارڈ کا حقدار قرار دے رہے تھے جبکہ اس کی بغل میں ایران اور پاکستان کے خلاف سازشی چھریاں چھپی تھیں۔ ایران کی ہمت نے ان تمام سازشوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور امریکہ کے عظمتِ رفتہ کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے۔پاکستانی مقتدر حلقوں کے لیے اب یہ سبق سیکھنے کا وقت ہے کہ وہ امریکہ کی غلامی کے بجائے اپنے زورِ بازو پر یقین پیدا کریں اور زوال پذیر طاقتوں کا مہرہ بننے کے بجائے مشرق کے اس ابھرتے ہوئے مرکز کا ساتھ دیں۔ ہمیں اپنے ازلی دشمن بھارت کی سازشوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو مسلسل ہمارے خلاف جال بن رہا ہے۔ عسکری قیادت کو اب اپنی اصل بہادری کا ثبوت دینا ہوگا تاکہ قوم کا اعتماد بحال ہو۔ ایران اور امریکہ کی اس کشمکش پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں اور یہ وقت یاد دلاتا ہے کہ انسانی منصوبوں پر ہمیشہ قدرت کا فیصلہ بھاری رہتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here