جاگ… قوم کی تقدیر، بیداری کا فیصلہ!!!

0
14
عامر بیگ

گزشتہ تین چار برسوں کی سیاسی داستان کا اگر غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو ایک تلخ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ صرف حکمران طبقہ ہی ناکامی اور نااہلی کا شکار نہیں رہا بلکہ بحیثیت قوم ہم بھی اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح عہدہ برآ نہیں ہو سکے۔ ریاست اور معاشرہ دراصل ایک دوسرے کا عکس ہوتے ہیں اور جب قیادت کمزور ہو جائے تو عوام کی خاموشی زوال کو ایک فطری انجام بنا دیتی ہے۔ پچھلے تین سالوں میں مہنگائی کی شرح نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جہاں بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ابھی حال ہی میں پچپن روپے فی لیٹر کا بھاری اضافہ اور مستقبل میں مزید اضافے کی پیش گوئی ایک بھیانک صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہے لیکن اس سنگین منظرنامے کے باوجود عوامی ردعمل محض سوشل میڈیا کے تبصروں اور وقتی احتجاج تک ہی محدود رہا۔ معاشی بدحالی کے اس سفر میں سیاسی عدم استحکام نے ملک کو بارہا بحرانوں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کی وجہ سے پارلیمنٹ، عدالتیں اور دیگر ریاستی ادارے سیاسی کھینچا تانی کی نذر ہوتے رہے جبکہ عام شہری اپنی روزمرہ کی بقا کی جنگ میں الجھ کر رہ گیا۔
اس صورتحال کے برعکس اگر ہم جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک پر نظر ڈالیں تو ایک بالکل مختلف اور سبق آموز منظر دکھائی دیتا ہے۔ سری لنکا میں جب معاشی بحران حد سے بڑھا اور حکمران طبقہ عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوا تو عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ وہاں لاکھوں لوگوں نے پرامن مگر بھرپور احتجاج کے ذریعے مقتدر حلقوں کو جواب دہ بنایا اور بالآخر اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں مختلف ادوار کے دوران طالب علموں نے اپنے حقوق کی خاطر بھرپور جدوجہد کی اور نظام میں بڑی تبدیلیاں رونما کیں جبکہ نیپال میں بھی عوامی تحریکوں نے سیاسی ڈھانچے کو بدلنے پر مجبور کیا جہاں عوامی قوت آج بھی ایک حقیقی عنصر کے طور پر موجود ہے۔ یہ تقابلی جائزہ ہمیں ایک مشکل سوال کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے کہ اگرچہ آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کو عوام نے نکل کر ووٹ تو دیا مگر کیا اس ووٹ کے تقدس پر پہرا دیا گیا؟ یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسئلہ صرف حکمرانوں کی نیت کا ہے یا ہم خود بھی اس جمود اور بے حسی کا حصہ بن چکے ہیں کیونکہ اگر ایک معاشرہ اپنی اجتماعی طاقت کو پہچان لے تو کمزور اور نااہل حکومتیں زیادہ دیر تک قدم نہیں جما سکتیں۔
جب معاشرہ خود مایوسی، تقسیم اور بے حسی کا شکار ہو جائے تو بدترین حکمرانی کے لیے راستہ خود بخود ہموار ہو جاتا ہے۔ ناصر ادیب کی شہرہ آفاق فلم مولا جٹ میں نوری نت کا ایک مکالمہ نہایت معنی خیز ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ اس دھرتی کو کسی نت کے جاگ لگانے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی سورما پیدا ہو کر ظلم کا مقابلہ کر سکے۔ یہ مکالمہ دراصل ایک گہرا استعارہ ہے کہ قومیں اسی وقت بیدار ہوتی ہیں جب ان کے اندر سے شعور کی آواز بلند ہوتی ہے۔ شاید آج ہمیں بھی اسی بیداری اور اجتماعی احساس کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی مثالیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ حقوق صرف مانگنے سے نہیں ملتے بلکہ ان کے حصول کے لیے مسلسل دباؤ اور بیدار مغزی ناگزیر ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی سوچوں کو ان ترقی پسند تحریکوں کے جاگ سے منور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نظام کی تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکے۔ اگر ہم خاموش رہے تو نااہل حکمران برسوں تک مسلط رہیں گے اس لیے اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ کیا ہم صرف حالات کا شکوہ کرتے رہیں گے یا بطور معاشرہ اپنی ذمہ داری پہچان کر جمہوری اور پرامن طریقوں سے نظام کو بہتر بنائیں گے کیونکہ قوم کی تقدیر کا دارومدار اب اسی ایک فیصلے پر ہے ان شائ اللہ۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here