فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! اسلام سچا دین ہے۔ اسلام کی تعلیمات کی پیروی میں انسان کا دنیا اور آخرت دونوں میں بھلا ہے۔ اسلام میں پورے پورے داخل ہونے کا حکم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کے ہر پہلو پر عمل کیا جائے۔ ارکان اسلام پانچ ہیں۔ یعنی اسلام کی عمارت جن ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے وہ پانچ ہیں۔ 1کلمہ۔2 نماز۔3 روزہ۔4 ۔زکوٰة۔5 حج یعنی مسلمان کلمہ پڑھنے سے ہوتا ہے۔ پھر نماز کی پابندی، روزہ کی پابندی، زکواة کی ادائیگی کی پابندی اور حج کی ادائیگی کی پابندی اپنی اپنی شرائط کے ساتھ لاگو ہوتی ہے۔ اسلام کی تعلیمات پر علم کرنے سے ذہنی وقلبی وجسمانی سکون نصیب ہوتا ہے۔ دنیا میں جو بھی آیا ہے وہ ظاہری وباطنی طور پر کسی نہ کسی امتحان سے ضرور گزر رہا ہے۔ تو مشکلات وامتحانات کا آنا اسلام کے منافی نہیں ہے بس ہر حال میں یعنی خوشی ہو یاغمی تنگی ہو یا فراخی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہٹنا اور اس کا شکر ادا کرنا لازم رہتا ہے۔ صبروتحمل جس کے بدلے بے حساب اجر ملتا ہے۔ کے ذریعے ابتلاء وآزمائش کے میدان میں مسلمان بہت آسانی سے کامیاب ہوجاتا ہے۔ نماز ہر مسلمان، عاقل وبالغ پر فرض ہے۔ مرد ہو یا عورت ایک دن میں اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس میں مہینہ یا موسم کی قید نہیں ہے۔ یعنی موسم خواہ بہار کا ہو یا خزاں کا سرما ہو یا گرما نماز فرض ہے۔ اسی طرح مہینہ شعبان کا ہو یا رمضان کا یا کوئی اور نماز فرض ہے۔ یہ اہل اسلام پر کوئی بوجھ نہیں بلکہ ان کے بھلے کے لئے فرض ہے پھر صحت مند ہے تو روزہ فرض ہے پھر صاحب مال ہے تو شرائط کے مطابق زکواة فرض ہے اور اگر صاحب مال ہو تو شرائط کے مطابق حج فرض ہے۔ ان کے علاوہ رزق حلال کمانا اور سچ بولنا اور جھوٹ وفراڈ سے باز رہنا بھی فرض ہے۔ بہرحال رمضان المبارک اپنی رحمتیں اور برکتیں ٹھا کر ہم سے وداع ہوگیا ہے اب ہم نے اپنا احتساب کرنا ہے اگر تو سچے دل سے گناہوں سے توبہ نصیب ہوگئی تو پھر ہم سمجھیں گے کہ ہم نے رمضان المبارک میں رحمتوں اور برکتوں کو لوٹ لیا ہے ہمارے روزے تراویح، صدقات وخیرات، ذکر وتسبیحات اور تلاوت قرآن پاک سب قبول کا درجہ حاصل کر گئے ہیں۔ خدانخواستہ اگر صورت دوسری ہے تو پھر لمحہ فکریہ ہوگا پھر تشویش کا مقام ہوگا پھر ہم نے سوچنا ہے کہ غلطی کہاں پر ہوئی ہے تاکہ اس کا احتساب کیا جائے اور آئندہ رمضان المبارک میں اس سے گریزاں رہا جائے اور ہر وقت توبہ کو معمول بنا کر عمل کی دنیا میں اتر آنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ اسلام ظاہری منافع دینے کا پابند نہیں۔البتہ جب ہم اپنا علاج قرآن وسنت کے مطابق روحانی کرتے ہیں تو ہمیں جسمانی اور ظاہری نفع حاصل ہوتا ہے۔ ظاہری منافع کا مطلب ہے ہم یہ ٹھان لیں کہ ہم مسلمان ہیں کلمہ گو ہیں۔ نمازیں پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں۔ زکوٰة وحج کی ادائیگی بھی کرتے ہیں بلکہ دیگر نقلی صدقات بھی کرتے ہیں لیکن ابتلاء وآزمائش کا دروازہ پھر بھی کھلا رہتا ہے۔ بس ان چیزوں سے بیگانہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی یا دس لگے رہنے اور ان سے چھٹکارے کا امیدوار رہنے کا نام اسلام ہے اسلام کی تعلیمات سے بغاوت بہرحال بدبختی ہے۔ بس اللہ کا ذکر اور پیارے محبوبۖ پر درود وسلام کی عادت ہی تمام مشکلات اور پریشانیوں کا مداوا ہے۔ خوشی کا کوئی بھی موقع ہو عیدالفطر یا عیدالاضحیٰ کی صورت میں ہو یا کاروبار ترقی، اولاد کا ملنا، امتحان میں کامیابی، شادی بیاہ، نوکری کا حصول وغیرہ تمام صورتوں میں اسلام کا دامن پکڑے رکھنا اور تعلیمات اسلامیہ کے مطابق اپنی زندگی گزارنا ہی کامیابی ہے۔ بس خوشی ملے تو اللہ کا شکر کیا جائے۔نبی رحمتۖ کی نعت شریف پڑھی جائے اور صدقات وخیرات کئے جائیں۔ اور غم ودکھ کی صورت میں صبر کیا جائے اور اللہ کی رضا پر راضی رہا جائے۔ نماز درورد کی پابندی بڑھا دی جائے۔ یہی اس کا بہترین کامیاب اور مجرب حل ہے۔ واویلا، رونا پیٹنا، گریبان چاک کرنا اور بے صبری کے کلمات بولنا، یہ سب فضول، فضول اور پھر فضول ہے اور اسلام سے دوای کی علامت ونشانی ہے۔
حضور نبی کریمۖ نے عید گزارنے کا جو طریقہ بتایا اور صحابہ کرام علیھم الرضوان نے جو طریقہ پیش کیا اس سے ایک بال برابر بھی دائیں بائیں نہیں ہونا چاہئے۔ صدقہ فطر اور زکوٰة وصدقات کے ذریعے فقر اور مساکین کو تعاون دیا جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ جس شخص نے عید کے دن تین سو مرتبہ، ”سُبَحانَ اللہ وَبحَمدِہِ” پڑھا اور مسلمان فوت شدگان کی روحوں کو اس کا ثواب ہدیہ کیا تو ہر مسلمان کی قبر میں ایک ہزار انوار داخل ہوئے ہیں۔ اور جب پڑھنے والا فوت ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی قبر میں بھی ایک ہزار انوار داخل فرمائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اچھے کام سے دوری بدبختی ہے۔ نیک کام کا فائدہ خود کو بھی ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہوتا ہے پھر قبر میں جانے کے بعد انسان کیلئے جو سب سے بڑی نعمت نظر آتی ہے وہ روشنی اور نور ہے تو جب دنیا میں ایسا اچھا کام کیا ہوگا تو اس کا نفع قبر میں نصیب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبۖ کا صدقہ تمام اہل اسلام کو عطا فرمائے۔(آمین ثمہ آمین)
٭٭٭٭٭










