فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
6

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

موت کی سختیوں اور اس کی حقیقت سے متعلق وارد شدہ مختلف روایات اور اقوال سلف کا مجموعہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ۖ نے موت اور اس کے دکھ درد کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ کرب تلوار کے تین سو زخموں کے برابر ہوتا ہے۔ آپ ۖ فرماتے ہیں کہ آسان ترین موت ایسی ہے جیسے اون میں کانٹے دار ٹہنی پھنس جائے اور اسے کھینچا جائے تو اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ اون ضرور کھنچی چلی آئے۔ ایک مرتبہ آپ ۖ ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کی کیفیت دیکھ کر فرمایا کہ میں جانتا ہوں اسے یہ پسینہ دردو الم اور موت کی شدت کی وجہ سے آ رہا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسی بنا پر لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے تھے کہ اگر تم میدانِ کارزار میں نہ اترو گے تب بھی موت برحق ہے، اور بخدا مجھے بستر پر مرنے کے مقابلے میں تلواروں کے ایک ہزار وار سہنا زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے۔ امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک موت کی تلخی اتنی طویل ہے کہ مردہ قبر سے اٹھنے تک اسے محسوس کرتا رہتا ہے، جبکہ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ موت مومن کے لیے دنیا و آخرت کے تمام اندیشوں میں سب سے زیادہ حوصلہ شکن خوف ہے جو آریوں سے چرنے یا قینچیوں سے اعضا کٹنے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اگر کوئی صاحبِ قبر دوبارہ زندہ ہو کر اس تلخی کی خبر دے دے تو لوگ دنیا کی تمام راحتیں بھول جائیں اور کبھی آرام کی نیند نہ سو سکیں۔زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی مومن اپنے عمل سے جنت کا مطلوبہ مقام نہیں پا سکتا تو موت کے وقت اسے سکرات کی سختی سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ اس آخری درجہ کو بھی حاصل کر لے، جبکہ کافر کے چند اچھے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دینے کے لیے اس پر موت کی شدت ہلکی کر دی جاتی ہے تاکہ وہ یہاں صلہ پا کر آخرت میں سیدھا جہنم کا رخ کرے۔ موت کی اس کیفیت کا اندازہ ایک ایسے شخص کے جواب سے لگایا جا سکتا ہے جس نے نزع کے عالم میں سوال کرنے پر بتایا کہ اسے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے آسمان و زمین آپس میں مل گئے ہوں اور اس کی روح سوئی کے ناکے سے گزاری جا رہی ہو۔ فرمانِ نبوی کے مطابق اچانک موت مومن کے لیے راحت جبکہ گنہگار کے لیے باعثِ حسرت ہے۔ حضرت مکحول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میت کے ہر بال میں موت سرایت کر چکی ہوتی ہے اور اگر میت کا ایک بال بھی زمین و آسمان کی مخلوق پر رکھ دیا جائے تو سب اللہ کے حکم سے فنا ہو جائیں۔ مروی ہے کہ اگر موت کے درد کا ایک قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر گرے تو وہ پگھل کر رہ جائیں۔انبیا علیہم السلام کے احوال سے بھی اس شدت کی تصدیق ہوتی ہے۔ مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے وصال کے بعد جب رب العزت نے دریافت فرمایا کہ اے خلیل تم نے موت کو کیسا پایا تو انہوں نے عرض کیا کہ جیسے سیخ کو گیلی اون میں ڈال کر کھینچا جائے۔ اس پر رب تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تم پر موت کو بہت آسان کر دیا تھا۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روح جب بارگاہِ الہی میں حاضر ہوئی تو آپ نے اپنی کیفیت کو جال میں پھنسی اس چڑیا سے تشبیہ دی جو نہ مرتی ہے اور نہ ہی اڑ پاتی ہے، یا اس بکری کی مانند جس کی کھال زندہ حالت میں اتاری جا رہی ہو۔ خود حضور اکرم کے وصال کے وقت پانی کا پیالہ قریب رکھا تھا جس میں آپ دستِ مبارک ڈبو کر پیشانی پر ملتے اور موت کی سختیوں سے پناہ مانگتے تھے۔ اس موقع پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گریہ و زاری دیکھ کر آپ نے تسلی دی کہ آج کے بعد آپ کے والد پر کوئی تکلیف نہیں آئے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے موت کی بابت پوچھا تو انہوں نے اسے ایک ایسی کانٹے دار ٹہنی سے تشبیہ دی جو انسانی جسم کی رگ رگ میں پیوست ہو کر انتہائی سختی سے کھینچی جائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی جب ملک الموت سے ملے تو وہ ان کی ہیبت سے ساکت رہ گئے، کیونکہ وہ ایسی ہستی ہے جو نہ بادشاہوں سے ڈرتی ہے اور نہ ہی اسے کوئی رکاوٹ روک سکتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان سختیوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here