سلیوٹ نہیں… ابسولیوٹلی ناٹ!!!

0
6
عامر بیگ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کراچی کی فضاؤں پر ایک ہی گروہ کی حاکمیت تھی اور شہر کی گلیوں سے لے کر ایوانوں تک صرف ایک ہی آواز گونجتی تھی۔ اس دور میں کسی کو یہ جرات نہ تھی کہ اس طاقت کے سامنے لب کشائی کر سکے۔ بڑے ٹی وی چینلز گھنٹوں اس آواز کو بلا توقف نشر کرتے اور پورا نظام جیسے سحر زدہ ہو کر رہ جاتا تھا۔ اختلاف کی گنجائش نہ ہونے کے برابر تھی اور خوف ایک غیر مرئی سائے کی طرح ہر سو پھیلا ہوا تھا۔ انہی کٹھن حالات میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ملکی سیاست کے دھارے کو بدلنے کی بنیاد رکھی۔ پاکستان تحریک انصاف کی ایک ریلی پر فائرنگ ہوئی جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور کئی کارکن زخمی ہوئے جس سے فضا مزید کشیدہ ہو گئی۔ یہ وہ نازک لمحہ تھا جب اکثر لوگ خاموشی کو ہی عافیت سمجھتے تھے اور مصلحت پسند طبقہ یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ طاقتور سے بیر مول لینا دانشمندی نہیں۔ مگر عمران خان نے اس موقع پر مکمل انکار کا راستہ چنا اور ایک مختلف بیانیے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے نہ صرف اس واقعے کو چیلنج کیا بلکہ متعلقہ اداروں کو شواہد فراہم کر کے اس شخصیت کو للکارا جسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت انہیں ہر طرف سے یہ تنبیہات ملیں کہ یہ راستہ تباہی کی طرف لے جائے گا کیونکہ حریف انتہائی بااثر ہے اور وہ لاہور تک پہنچ کر عبرت کا نشان بنا سکتا ہے۔ ان تمام سنگین نتائج کی دھمکیوں کے باوجود وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے کیونکہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ بعض اوقات ایک فرد کا عزم اجتماعی خوف پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ وقت گواہ ہے کہ وہ طاقت جو کبھی ناقابل چیلنج سمجھی جاتی تھی بالآخر زوال کا شکار ہو کر ایک محدود دائرے تک سمٹ گئی۔یہی طرز عمل بعد میں ایک بڑے عالمی تناظر میں بھی نظر آیا جب وہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئے تو انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی ایک خودمختار موقف اپنانے کی کوشش کی۔ ایک بار پھر مکمل انکار کا نعرہ اسی سوچ کی عکاسی تھا جس میں قومی وقار اور خودداری کا پہلو نمایاں تھا۔ انہیں اس سخت موقف کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اور انہیں قانونی مقدمات سمیت ذاتی و جماعتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر ان کی حکومت ختم کر دی گئی اور انہیں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں لیکن یہاں اصل نکتہ جرات اور بیانیے کی طاقت کا ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی مواقع آتے ہیں جب کسی ایک آواز کو خطرات کے باوجود سچ پر ڈٹنا پڑتا ہے اور اسی عمل سے تبدیلی کے دروازے کھلتے ہیں۔ سیاست محض اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ یہ جرات اور وقت کے دھارے کو موڑنے کی صلاحیت کا نام بھی ہے۔ آج جب عالمی سطح پر کئی طاقتور شخصیات کو اسی طرح کے عوامی ردعمل کا سامنا ہے تو اس کا کریڈٹ اس شخص کو ملنا چاہیے جس نے سب سے پہلے اس بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا۔ ماضی میں اسی قیادت نے عالمی طاقتوں کو افغانستان جیسے بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا تھا اور آج بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اسی قد آور شخصیت کی معاونت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ایک ایسی قیادت کو جو ملکی اور عالمی بہتری کے لیے کام کرنے کا عزم رکھتی ہو دوبارہ قومی دھارے میں شامل کیا جائے تاکہ وہ اپنے کرشماتی اثر و رسوخ سے پاکستان کا وقار بحال کر سکے۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو کسی کے سامنے جھکنے کے بجائے قومی مفاد پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فن جانتے ہیں اور ان کی رہائی نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here