قارئین اور عزیزان وطن، میرے ایک بہت عزیز دوست ملک سجاد ایمن آبادی جو دانشورانہ حلقوں میں ایک منجھے ہوئے مفکر کی حیثیت رکھتے ہیں، اکثر ایک مثال دیا کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی کسی کو نوازنا چاہتا ہے تو اسے پہلے عقل عطا کرتا ہے اور جب نعمتیں واپس لینے کا وقت آتا ہے تو سب سے پہلے فہم و ادراک ہی چھین لیا جاتا ہے۔ آج جب ان کی اس بصیرت افروز بات پر غور کرتا ہوں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی عملی تصویر نظر آتے ہیں۔ موصوف خود کو کسی فرعون سے کم نہیں سمجھتے اور اسی زعم میں انہوں نے امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے نعرے تلے دنیا کی اس سپر پاور کے وقار کو پامال کر دیا۔ وہ یہ بھول گئے کہ اصل طاقت اور اقتدار صرف اللہ پاک کے پاس ہے۔ آج حق کا پرچم بلند کرنے والوں نے ٹرمپ کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے اور یہی حال ان کے صہیونی دستِ راست بنیامین نیتن یاہو کا بھی ہونے والا ہے کیونکہ بقا صرف ربِ کائنات کے نام کو ہے۔جس طرح انسان کے دو چہرے ہوتے ہیں، میں کافی عرصے سے اس تجسس میں تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کس تاریخی کردار سے مشابہت رکھتی ہے۔ اپنے گردے کی پتھری کے آپریشن کے دوران جب میں نیم بے ہوشی کی کیفیت میں تھا، تب بھی میرے ذہن میں یہی سوال گردش کر رہا تھا کہ وہ کون سا شخص ہے جس نے اپنے ملک کو اپنے ہی ہاتھوں برباد کیا۔ تب مجھے روس کا میخائل گورباچوف یاد آیا جس نے سوویت یونین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا، حالانکہ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ٹوٹ پھوٹ سے کئی ریاستوں کو آزادی نصیب ہوئی۔ اب ہمارے عہد کے نئے گورباچوف ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں امریکہ کی عالمی برتری کو ٹھیس پہنچائی ہے، وہیں عالمی سیاست کے منظر نامے سے اپنا اثر و رسوخ بھی کھو دیا ہے۔ اس صورتحال نے ان عرب ریاستوں کا بھرم بھی توڑ دیا ہے جو حرمین شریفین کے سائے میں پنپ رہی ہیں اور جنہیں یہ گمان تھا کہ یہ طاقتور حکمران ان کے محافظ ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نام نہاد محافظ مسلم سرزمین سے دولت سمیٹ کر اسرائیل اور صہیونیوں کے مفادات کی نگہبانی کرتے رہے۔ مسلمانوں کو یہ حقیقت سمجھنے میں دیر لگی کہ امریکی پالیسی کا محور صرف اپنے مفادات کا تحفظ رہا ہے، چاہے اقتدار میں ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ۔ دعا ہے کہ پروردگار عالم پاکستان اور اس کے موجودہ حکمرانوں کو ان غیر ملکی مفادات کی بھینٹ چڑھنے سے محفوظ رکھے کیونکہ ہم ایوب خان سے لے کر مشرف دور تک امریکی مفادات کی خاطر قومی وقار کو مجروح ہوتے دیکھ چکے ہیں۔میں ایک قدیم وضع دار انسان ہوں اور ماضی کی یادوں میں کھویا رہنا میری جبلت ہے۔ تحریک پاکستان کے ایام میں جب سیاسی فضا گرم تھی، مجلس احرار کے رہنما امیر شریعت عطا اللہ شاہ بخاری اپنی سحر انگیز خطابت کے لیے مشہور تھے۔ ان کے ایک ساتھی حبیب الرحمن لدھیانوی نے جب جواہر لال نہرو سے شکایت کی کہ ہم تو آپ کے حمایتی ہیں پھر آپ کے لوگ ہمیں کیوں نشانہ بناتے ہیں، تو نہرو کا جواب نہایت سبق آموز تھا کہ گولی یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے والا مسلم لیگی ہے یا احراری، وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ سامنے مسلمان کھڑا ہے۔ اس واقعے کو یہاں بیان کرنے کا مقصد عالم اسلام کو یہ باور کرانا ہے کہ جب ٹرمپ یا نیتن یاہو کی دشمنی حرکت میں آتی ہے تو وہ فرقوں یا سیاسی نظریات کی تمیز نہیں کرتی۔ ان کے نزدیک حرمین کے ماننے والے، ایران کے پیروکار یا پاکستان کے باسی سب یکساں ہیں کیونکہ ان کی اصل نفرت مسلمانوں سے ہے۔ لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مسالک اور گروہ متحد ہو جائیں اور حرم کی پاسبانی کے لیے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔
















