حافظ نعیم الرحمٰن نے حال ہی میں پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک ایسا سوال اٹھایا ہے جس کی بازگشت طاقت کے ایوانوں سے لے کر عوامی حلقوں تک سنائی دے رہی ہے۔ یہ وہ سوال ہے جسے پوچھنے کی ہمت نہ مصلحت پسند سیاست دانوں میں ہے اور نہ ہی دباؤ کا شکار میڈیا میں، مگر عوام کے دلوں میں یہ بے چینی برسوں سے موجود ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری رہا کیا جائے اور اگر احتساب کا عمل ہی معیار ہے تو پھر قانون کی گرفت سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو بھی اسی کٹہرے میں لایا جائے جہاں عمران خان کھڑے ہیں۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ اس نظریے کی ترجمانی ہے جہاں قانون کے سامنے حکمران اور عام شہری برابر تصور کیے جاتے ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپریل 2016ء ایک اہم موڑ ثابت ہوا جب پاناما پیپرز کی دستاویزات نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا۔ ان ریکارڈز میں نواز شریف کے خاندان سے جڑی آٹھ آف شور کمپنیوں کے شواہد ملے جن کے ذریعے لندن کے مہنگے ترین علاقے میں ایون فیلڈ ہاؤس کے چار فلیٹس خریدے گئے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ فلیٹس 1993ء سے شریف خاندان کے زیر استعمال تھے۔ سپریم کورٹ نے ان شواہد کی بنیاد پر نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے نااہل قرار دیا اور نیب کو تین مختلف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا۔ تحقیقاتی عمل کے دوران مریم نواز کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات میں کیلیبری فونٹ کا استعمال بھی متنازع رہا جو اس وقت عوامی استعمال کے لیے دستیاب ہی نہیں تھا۔ 6 جولائی 2018ء کو احتساب عدالت نے نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں گیارہ سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی۔ بعد ازاں دسمبر 2018ء میں انہیں العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں مزید سات سال قید کی سزا ملی کیونکہ وہ ذرائع آمدن ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم علاج کی غرض سے لندن روانگی اور چار سال بعد واپسی پر ان کی سزاؤں کا کالعدم ہونا عدالتی نظام پر کئی سوالات چھوڑ گیا۔اسی طرح آصف علی زرداری کیخلاف بدعنوانی کے معاملات عالمی سطح تک پہنچے۔ 16 اپریل 1999ء کو لاہور ہائی کورٹ نے انہیں سزا سنائی جبکہ 5 اگست 2003ء کو سوئس تحقیقاتی حکام نے بھی انہیں مجرم قرار دیا۔ سوئس مجسٹریٹ کے مطابق ان کا طرزِ عمل عوامی مفادات کیخلاف تھا اور انہیں غیر قانونی کمیشن کی رقوم واپسی کا حکم دیا گیا۔ ان پر سوئس اکاؤنٹس میں کروڑوں پاؤنڈز کی موجودگی اور انگلستان میں سرے محل کی ملکیت جیسے سنگین الزامات رہے۔ اس کے علاوہ پولینڈ کے ٹریکٹر اسکینڈل اور عراق کے آئل فار فوڈ پروگرام میں بھی ان کا نام سامنے آیا۔ خود آصف علی زرداری نے ایک موقع پر اعتراف کیا کہ وہ عدالتی کارروائیوں کو طویل کر کے ختم کر دیتے ہیں۔ 2007ء میں این آر او کے اجرا کے بعد ان کے تمام مقدمات ختم کر دئیے گئے اور وہ 2008ء میں ملک کے صدر بن گئے۔ حکومت کی جانب سے بروقت اپیل نہ کرنے کے باعث سوئس مقدمات بھی داخلِ دفتر کر دئیے گئے۔دوسری جانب عمران خان کو اس نظام میں کڑے امتحان سے گزارا جا رہا ہے۔ دسمبر 2024ء تک ان پر مقدمات کی تعداد 186 تک پہنچ چکی تھی۔ 17 جنوری 2025ء کو انہیں القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ سال اور 21 دسمبر 2025ء کو توشہ خانہ کیس میں سترہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کی مجموعی سزائیں پینسٹھ سال تک پہنچ چکی ہیں جو عملی طور پر تاحیات قید کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی ان کی قید کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں تنہائی، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور قانونی معاونت میں رکاوٹیں شامل ہیں۔ ایک ایسے سیاست دان کے ساتھ یہ سلوک جو مقبولیت کے اعتبار سے صفِ اول میں ہے، انتقامی سیاست کا تاثر پیدا کر رہا ہے۔جب ایک طرف نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف بین الاقوامی اور مقامی عدالتوں کے فیصلے موجود ہونے کے باوجود وہ اقتدار کے ایوانوں میں ہیں اور دوسری طرف عمران خان سخت ترین سزائیں بھگت رہے ہیں، تو انصاف کے دوہرے معیار کی بحث جنم لیتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن کا مطالبہ دراصل اسی تضاد کا خاتمہ ہے تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت اور قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔ جب تک ایون فیلڈ، العزیزیہ اور سوئس اکاؤنٹس جیسے معاملات کا شفاف حساب نہیں ہوتا، تب تک احتساب کا عمل محض ایک سیاسی ہتھیار معلوم ہوتا رہے گا۔ پاکستان کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں سزا اور جزا کا فیصلہ سیاسی وابستگی کی بجائے آئین اور ضمیر کی بنیاد پر کیا جائے۔












