کسی کم ظرف کے ہاتھوں میں مگر جام نہ دو!!!

0
7

انسانی کائنات میں اجتماعیت کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اور ایک صحت مند معاشرے کی نشو نما اور پائیدار ترقی کے لیے مؤثر قیادت کا میسر آنا ناگزیر ہے۔ قرآن و سنت کی فراہم کردہ ہدایات ہوں یا اقوامِ عالم کے عروج و زوال کی تاریخ سے حاصل شدہ تجربات، ایک وسیع النظر اور دور اندیش قیادت کا وجود ہر سطح کی اجتماعیت کے لیے لازمی امر قرار پاتا ہے۔ یقیناً اسی لیے اللہ رب العالمین نے ہر دور کے انسانوں کے لیے ان کے درمیان پیغمبر مبعوث فرمائے تاکہ وہ انسانیت کو اعلیٰ ترین درجے کی فکری و عملی قیادت فراہم کر سکیں۔ قرآنِ مجید میں اس مقصد کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ترجمہ: میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں میری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو پاکیزہ بناتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔ القرآن! چونکہ موجودہ عہد میں ریاستِ مدینہ کے نمونے پر دنیا کی کوئی بھی حکومت مکمل طور پر عمل پیرا نہیں، اس لیے کسی بھی ملک کو اس بلند معیار پر نہیں پرکھا جا سکتا، تاہم عالمی سطح پر کم از کم ایک ایسا ضابطہ اخلاق ہونا ضروری ہے جس میں ظلم کے بجائے انصاف کا غلبہ دکھائی دے۔ ماضیِ قریب میں امریکہ سمیت کچھ ایسے ممالک یقیناً موجود تھے جہاں انصاف کی جھلک نظر آجاتی تھی، جس کی بنا پر انہیں اقوامِ عالم میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور باہمی تنازعات میں ان کی ثالثی کو بھی تسلیم کر لیا جاتا تھا۔ شومئی قسمت کہ وقت کے ساتھ ان ممالک کی قیادت اخلاقی و سیاسی تنزلی کا شکار ہوئی اور اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ نام نہاد عالمی نظام ہماری نظروں کے سامنے تیزی سے زمیں بوس ہو رہا ہے۔ جوہری طاقت ہو یا جدید ترین ٹیکنالوجی، کوئی بھی شے اسے ذلت کے گڑھے میں گرنے سے نہیں بچا پا رہی۔ انجم رہبر صاحبہ نے اس صورتحال کی خوب ترجمانی کی ہے کہ!
میکدے بند بھی ہو جائیں تو پرواہ نہ کرو
کسی کم ظرف کے ہاتھوں میں مگر جام نہ دو
موجودہ عالمی قیادت نہ صرف اخلاقی طور پر کم ظرف ہے بلکہ نااہلی، انتقام پسندی اور بدکرداری میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ایپسٹین فائلوں کے لاکھوں صفحات اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ عالمی اشرافیہ درحقیقت انسانیت کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان خونخوار عناصر کے قبضے میں وہ مہلک ہتھیار آگئے ہیں جن کا بے دریغ استعمال کرکے وہ کمزور اور مجبور انسانوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔ کھلے عام جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کے باوجود ابلاغی ذرائع کے ذریعے معصومیت کا ڈھونگ رچایا جاتا رہا ہے، البتہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے عوام کو ایسی زبان عطا کردی ہے کہ اب یہ تمام کردار دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ایران کے شہریوں نے غزہ کے باسیوں کی مانند اور شہدائے کربلا کی پیروی میں اپنا تمام مال و متاع قربان کرکے عالمی سطح پر عزت اور آزادی جیسی نعمتوں کی توقیر کو بحال کر دیا ہے۔ دعا ہے کہ پروردگار ان کے ایمان کو مزید استقامت بخشے، ان کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت عطا کرے اور غیب سے ان کی مدد فرمائے۔
آج تقریباً پندرہ سو سال بعد شہدائے کربلا کی طرح غزہ اور ایران کے شہری تن تنہا مزاحمت کی راہ پر ثابت قدم ہیں۔ جہاں یزیدی نظریات کے پیروکار ظلم و ستم کی انتہا کر رہے ہیں، وہیں مصلحت پسندوں اور منافقین کے کردار بھی واضح ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔ طاقت کے شدید عدمِ توازن کی وجہ سے ظالم گروہ روزانہ شہدائ کے سر نیزوں پر چڑھا کر اپنی طاقت کا رعب جمانے کی کوشش کرتا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے مظلوموں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرکے قصوروار گردانتے ہیں۔ کربلا کی تاریخ دہراتے ہوئے غزہ اور ایران کے معصوم بچے اپنی شہادتوں کے ذریعے حق کے بیانیے کو جلا بخش رہے ہیں اور ثانیِ زہرا کے نقشِ قدم پر چلنے والے خطبات نے یزیدی پیروکاروں پر دنیا تنگ کر دی ہے۔ حق کے اسی بیانیے کو یہ مشہور رباعی مزید تقویت دیتی ہے کہ۔
شاہ است حسین، پادشاہ است حسین
دین است حسین، دین پناہ است حسین
سر داد، نداد دست در دست یزید
حقاً کہ بنائے لا الہ است حسین
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ واقعہ کربلا کے کچھ عرصہ بعد ہی اس عہد کا سیاسی و سماجی ڈھانچہ تبدیل ہو گیا تھا اور موجودہ حالات بھی اسی تبدیلی کی نوید سنا رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں منیر نیازی کی اس خواہش کی تکمیل بھی ممکن ہو سکے گی۔
چاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here