نکاح میں دھوکہ دہی اور سماجی بے راہ روی!!!

0
8
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام، آپ کی خدمت میں سلام عقیدت پیش ہے۔ آج کا موضوع اس قدر حساس اور سنگین ہے کہ اس پر قلم اٹھانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ موجودہ دور میں مغربی معاشرے کی تقلید اور اقدار سے دوری کے باعث طلاق اور علیحدگی کے واقعات اس کثرت سے رونما ہو رہے ہیں کہ انسانیت لرز اٹھتی ہے۔ بسا اوقات یہ خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں پر غفلت کے کیسے پردے پڑ گئے ہیں کہ وہ دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو کر یہ بھی بھول گئے ہیں کہ انہیں ایک دن اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔
چونکہ ایسے واقعات معاشرے میں کثرت سے ملتے جلتے ہوتے ہیں، اس لیے کسی کردار سے مماثلت محض اتفاقیہ تصور کی جائے گی۔ زیر نظر واقعہ حقیقت پر مبنی ہے جو پاکستان کے علاقے کاہنہ میں پیش آیا جہاں ایک نیک نیت انسان کو اس کی ہمدردی کی ایسی ہولناک سزا ملی جو سننے والوں کے لیے عبرت کا نشان ہے۔ اس لیے نصیحت کی جاتی ہے کہ خواہ مرد ہو یا عورت، شادی جیسا اہم فیصلہ کرنے سے قبل اپنے بزرگوں سے مشورہ کریں اور خاندان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کریں۔ جلد بازی اور بنا سوچے سمجھے رشتہ جوڑنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ زندگی بھر کا ساتھ ہوتا ہے جس پر نہ صرف آپ کا بلکہ آپ کی آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی منحصر ہوتا ہے۔یہ واقعہ اللہ کی رضا کی خاطر ایک بے سہارا عورت کا سہارا بننے والے شخص کا ہے، جسے اسی عورت نے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتروا دیا۔ کاہنہ کی رہائشی ثمینہ بی بی ایک طلاق یافتہ خاتون تھی جسے اس کے سابق شوہر نے بدکرداری کی بنیاد پر چھوڑ دیا تھا۔ رمضان نامی ایک فیکٹری ملازم نے ثمینہ کی حالت پر ترس کھا کر اسے اپنی زوجیت میں قبول کر لیا۔ نکاح کے آغاز میں ہی رمضان نے اسے واضح کیا تھا کہ اس نے یہ قدم محض ثواب کی نیت سے اٹھایا ہے، لہٰذا وہ نیک بن کر دکھائے تاکہ اسے اپنے فیصلے پر کبھی ندامت نہ ہو اور وہ تاحیات ایک دوسرے کا ساتھ نبھائیں۔ ثمینہ نے وعدہ تو کر لیا اور دو سال بعد ان کے ہاں ایک بیٹی کی ولادت بھی ہوئی، لیکن حالات نے اس وقت پلٹا کھایا جب ثمینہ کا چچا زاد بھائی بلال کام کی تلاش میں ان کی زندگی میں داخل ہوا۔ثمینہ کی سفارش پر رمضان نے بلال کو ملازمت دلوا دی اور مروت میں اسے اپنے گھر پر عارضی رہائش بھی فراہم کر دی، لیکن یہ چند دن ہفتوں میں بدل گئے اور ثمینہ اپنے ہی بھائی کے عشق میں مبتلا ہو گئی۔ بلال کے کام کے اوقات کچھ ایسے تھے کہ رمضان کی غیر موجودگی میں وہ گھر پر موجود ہوتا تھا۔ بلال نے ثمینہ کو اکسا کر طلاق لینے اور کہیں دور جا کر نئی زندگی بسانے کا جھانسہ دیا۔ ثمینہ اس کے سحر میں ایسی گرفتار ہوئی کہ اس نے بلاوجہ رمضان سے جھگڑنا اور طلاق کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا، مگر رمضان اپنی معصوم بیٹی کے مستقبل کی خاطر صبر کا دامن تھامے رہا۔ اس دوران بلال وہاں سے منتقل تو ہو گیا لیکن ان کے ناجائز تعلقات اور ملاقاتیں بدستور جاری رہیں۔
آخر کار دونوں نے رمضان کو راستے سے ہٹانے کا خوفناک منصوبہ تیار کیا۔ ایک روز بلال نے بہانے سے رمضان کو ویران جگہ بلایا اور اسے دھمکاتے ہوئے ثمینہ کو طلاق دینے کا مطالبہ کیا۔ رمضان نے جب انکار کیا اور بلال کو اس کی نمک حرامی پر سخت سست کہا تو تلخ کلامی اس حد تک بڑھی کہ بلال نے چھری کے وار سے رمضان کو شدید زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔ راہگیروں کی اطلاع پر پولیس اور امدادی ٹیموں نے زخمی کو ہسپتال پہنچایا مگر رمضان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ تفتیش کے دوران جب پولیس نے رمضان اور ثمینہ کے موبائل فون کے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو ہولناک انکشافات ہوئے کہ رمضان کی زندگی کی جنگ کے دوران بھی ثمینہ اور بلال مسلسل رابطے میں تھے۔
شک کی بنیاد پر گرفتاری کے بعد جب پولیس نے تفتیش کی تو ثمینہ نے اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کر لیا۔ ٹریکر کی مدد سے بلال کو بھی دوسرے شہر سے گرفتار کر لیا گیا اور اب دونوں اپنے جرم کی پاداش میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ اس لرزہ خیز واقعے کے نتیجے میں ایک ننھی بچی یتیم اور بے سہارا ہو گئی۔ اگر رمضان بروقت اپنی بیوی کی فطرت کو بھانپ کر اسے طلاق دے دیتا اور بیٹی اپنے پاس رکھ لیتا، تو کم از کم اس بچی کے سر پر باپ کا سایہ تو سلامت رہتا۔ آج وہ معصوم بچی ماں اور باپ دونوں کی شفقت سے محروم ہو کر معاشرے کے رحم و کرم پر ہے۔ قارئین، اس کہانی کا مقصد صرف دکھ کا اظہار نہیں بلکہ یہ سبق دینا ہے کہ زندگی کے اہم فیصلوں میں بزرگوں کی بصیرت کو شامل کریں اور ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں، تاکہ جان و مال کا ضیاع نہ ہو۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here