مسیحی رہنماؤں نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو ظالمانہ اور جابرانہ قرار دیدیا

0
8

واشنگٹن(پاکستان نیوز) امریکہ بھر کے سیکڑوں مسیحی رہنماؤں اور دانشوروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے حکومتی پالیسیوں کو “ظالمانہ اور جابرانہ” قرار دیتے ہوئے مومنین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں پھیلتے ہوئے “غیر جمہوری خطرات اور ناانصافیوں” کے خلاف فعال مزاحمت کریں۔ عقیدے اور جمہوریت کے بحران میں مسیحیوں کے لیے ایک پکار کے عنوان سے جاری اس خط میں کہا گیا ہے کہ ملک ایک گہرے اخلاقی اور روحانی بحران کا شکار ہے۔ اس مہم کا آغاز مسیحیوں کے روزوں کے مقدس ایام ‘لنٹ’ کے ساتھ کیا گیا ہے، جو توبہ اور خود احتسابی کا وقت ہوتا ہے۔ سوجرنرز کے صدر ایڈم رسل ٹیلر کا کہنا ہے کہ بہت سے سفید فام ایوینجلیکل مسیحی انتظامیہ کی غیر مشروط حمایت کر رہے ہیں، جو کہ حضرت عیسیٰ کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔ مسیحی رہنماؤں نے خاص طور پر تارکینِ وطن کے خلاف سخت کارروائیوں، ووٹنگ کے حقوق کی پامالی اور “سفید فام مسیحی قوم پرستی” کے ابھار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسیحی عقیدے کو سیاسی مقاصد کے لیے مسخ کیا جا رہا ہے۔ جارج ٹاؤن سینٹر فار فیتھ اینڈ جسٹس کے ڈائریکٹر ریورنڈ جم والس کے مطابق، یہ وقت مسیحی شاگردی اور شہری ذمہ داری کا ایک بڑا امتحان ہے کیونکہ کمزور طبقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس بیان پر اب تک 400 سے زائد ممتاز شخصیات نے دستخط کیے ہیں، جن میں سیاہ فام، ایشیائی اور لاطینی کلیساؤں کے رہنما اور تعلیمی ماہرین شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بیان پر فی الحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سیاسی طاقت کے حصول کے لیے مذہبی زبان کا غلط استعمال کر رہی ہے جو کہ “بت پرستی” کی ایک شکل ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here