اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ پر قبضے کا حق الہامی کتابوں نے دیا، امریکی سفیر

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی کی جانب سے اسرائیل کے مشرقِ وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر قبضے کے بیان پر اسلامی ممالک کی جانب سے سخت ردِ عمل آیا ہے جس کے بعد انھوں نے اس سارے معاملے کو سازشی نظریات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان اور 13 دیگر اسلامی ممالک نے امریکی سفیر کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے سمیت دیگر عرب ریاستوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر قبضہ کر لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مائیک ہکابی نے سنیچر کے روز دائیں بازو کے سیاسی کارکن اور مبصر ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے پر کنٹرول کا حق اسے الہامی کتابوں میں دیا گیا ہے۔ ‘ ٹکر کارلسن نے ہکابی سے گفتگو کے دوران پوچھا کہ انھوں نے مسیحیوں کے مقدس عہدنامہ قدیم کے بک آف جینیسس کا حوالہ کیوں دیا اور کیا وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ پر اسرائیل کا حق ہے؟ ہکابی نے جواب دیا کہ ‘اگر وہ سب کچھ لے لیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔’ ٹکر کارلسن کا کہنا تھا کہ ہکابی نے عہدنامہ قدیم کے جینیسس 15 کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی اولاد دریائے فرات (جو موجودہ عراق اور شام سے گزرتی ہے) سے دریائے نیل (مصر میں) تک زمین کی وارث ہوگی۔ کارلسن نے ہکابی سے پوچھا، ‘آپ جینیسس 15 کا حوالہ دیتے ہیں، جس میں نیل سے لے کر فرات تک کی زمین کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں موجودہ اسرائیل، اردن، شام، لبنان، اور یہاں تک کہ سعودی عرب اور عراق کے حصے بھی آتے ہیں۔ تو کیا آپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اسرائیل کو اس سارے علاقے پر اختیار دیا گیا ہے؟’ اس پر، ہکابی نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس میں یہ تمام علاقے شامل ہیں لیکن یہ بہت بڑا علاقہ ہے۔ اس پر کارلسن نیسوال کیا، ‘تو کیا خدا نے وہ زمین یہودیوں کو دی تھی یا نہیں؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس نے ایسا کیا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا ان کا اس زمین پر حق ہے؟’ خیال رہے کہ ہکابی ایک انجیلی مسیحی ہیں اور انھیں اسرائیل کا ایک کٹر حامی سمجھا جاتا ہے۔ امریکی سفیر کے بیان پر سخت ردِ عمل دیتے ہوئے اسلامی ممالک کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے کی سلامتی اور امن کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت 14 اسلامی ممالک، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت کی ہے اور اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘تمام ممالک ایسے کسی بھی خطرناک اور اشتعال انگیز بیانات کو واضح طور پر مسترد کرتے جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔’ اسلامی ممالک کا کہنا ہے کہ ‘ایسے بیانات غزہ کے تنازعے کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جامع منصوبے سے متصادم ہیں جس کے تحت فلسطینی عوام کے لیے ایک خود مختار ریاست کا قیام یقینی بنایا جائے گا۔’ بیان میں کہا گیا ہے ‘مقبوضہ فلسطین یا کسی اور مقبوضہ عرب سرزمین پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسلامی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے اپنے ساتھ الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش، مقبوضہ فلسطینی علاقے میں آبادکاری کی سرگرمیوں میں توسیع اور عرب ریاستوں کی خودمختاری کے لیے کسی بھی خطرے کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔’

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here