ٹرمپ کے شدید دباؤ پرنیتن یاہولبنان کیساتھ جنگ بندی پر مجبور

0
10

واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی حالیہ ٹیلی فونک گفتگو نے مشرق وسطیٰ کی سیاسی بساط پلٹ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کال کے دوران ہونے والی گفتگو انتہائی سخت اور تلخ تھی، جس کے فوراً بعد اسرائیل نے لبنان کے ساتھ براہ راست جنگ بندی مذاکرات شروع کرنے کا غیر متوقع اعلان کر دیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو واضح طور پر باور کرایا کہ اگر اسرائیل نے سفارتی راستہ اختیار نہ کیا تو وہ خود یکطرفہ طور پر لبنان میں جنگ بندی کا اعلان کر دیں گے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملوں میں ہونے والے بھاری جانی نقصان پر شدید برہمی کا اظہار کیا، خاص طور پر ایک ہی دن میں 303 افراد کی ہلاکت نے امریکی انتظامیہ کو سخت موقف اپنانے پر مجبور کیا۔ نیتن یاہو کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر محدود کریں کیونکہ یہ حملے خطے میں قیام امن کی کوششوں اور ایران کے ساتھ ہونے والی حالیہ دو ہفتہ وار جنگ بندی کو کمزور کر رہے ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق لبنان کو اچانک اس ڈیل میں شامل کیا گیا جس سے اسرائیلی قیادت دباؤ میں آگئی۔ اگرچہ اسرائیل کی جانب سے فون کال میں تلخی کی خبروں کو فیک نیوز قرار دے کر مسترد کیا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اسرائیل کے پاس صدر ٹرمپ کے سخت انتباہ کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ امریکی موقف یہ ہے کہ وہ خطے میں مکمل خاموشی چاہتے ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اسرائیل کی جانب سے مذاکرات پر یہ اچانک آمادگی صدر ٹرمپ کی جارحانہ سفارت کاری کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here