مجبور بوڑھے …تنہائی اور اولاد کا المیہ!!!

0
14
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

قارئین کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ آج آپ کی خدمت میں زمانے کا وہ دکھ بیان کیا جائے گا جو عمر عزیز کے اس حصے میں نہایت شدت سے محسوس ہوتا ہے جہاں میں خود پہنچ چکا ہوں۔ وہ لوگ جو سنہ ستر کی دہائی میں پیدا ہوئے اور اب پچاس برس کی عمر پار کر چکے ہیں وہ ان سماجی سانحات سے بخوبی واقف ہوں گے جو ہماری مشرقی ثقافت میں جڑ پکڑ رہے ہیں۔ کبھی طلاق کا سن کر خواتین توبہ کرتی تھیں اور اسے ایک بڑا عیب سمجھا جاتا تھا مگر آج یہ عمل عام ہو چکا ہے بالکل اسی طرح بزرگوں کے ساتھ ہونے والا سلوک بھی اب ایک المیہ بنتا جا رہا ہے۔ زیر نظر تحریر مجید میمن صاحب کے ایک افسانوی تخلیق کے گرد گھومتی ہے جسے انہوں نے اپنے احساسات میں ڈھال کر پیش کیا ہے تاکہ آپ اسے پڑھ کر معاشرے کی بے حسی کو محسوس کر سکیں۔مجید میمن ساری زندگی غربت کی چکی میں پستا رہا۔ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا اور چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ مفلسی کا یہ عالم تھا کہ وہ بمشکل دو جماعتیں ہی پڑھ سکا تھا کہ دس سال کی عمر میں سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ چھ بہنوں اور بیوہ ماں کی ذمہ داری اس کے ننھے کندھوں پر آن پڑی۔ باپ کے سوا اس دنیا میں کون کسی کا سہارا بنتا ہے اور کون کسی کے منہ میں نوالہ دیتا ہے یہاں تو الٹا سب چھیننے والے ہی ملتے ہیں۔ وقت بدلا تو رشتے دار بھی دور ہونے لگے کہ کون ان چھ لڑکیوں کی شادی کا بوجھ اٹھائے گا۔ دس سالہ بچہ زمانے کی سرد ہوائیں برداشت کرتے ہوئے اپنی بساط سے زیادہ مزدوری کرنے لگا تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ وہ نہایت محنتی تھا اور دن رات کی مشقت سے جمع کی گئی پونجی سے ایک ایک کر کے اپنی تمام بہنوں کو بیاہ دیا۔ بیس سال کی عمر میں اسے ایک اور بڑا صدمہ پہنچا جب اس کی ماں بھی اسے تنہا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملی۔بہنیں اپنے گھروں کی ہو چکی تھیں اور وہ اس کچے مکان میں اکیلا رہ گیا۔ کبھی ماں اور بہنیں اس کے کھانے کا انتظار کرتی تھیں اور دیر ہونے پر فکر مند رہتی تھیں مگر اب گھر کی دہلیز پر کوئی نظریں جمائے بیٹھا نہیں ہوتا تھا۔ تنہائی اسے کاٹنے لگی اور وہ اکثر تھکا ہارا آ کر بغیر کچھ کھائے پیے سو جاتا۔ بہنوں نے اس کی حالت دیکھ کر شادی کا مشورہ دیا مگر ایک غریب کیلئے رشتہ ملنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ آخر کار ایک نیک دل انسان نے اپنی بیٹی کا ہاتھ اس کے سپرد کر دیا اور اس جیون ساتھی کے آتے ہی اجاڑ مکان جنت کا نمونہ بن گیا۔ بیوی نہایت صابر اور شاکر تھی جس نے کبھی تنگ دستی کا شکوہ نہیں کیا اور ہر مشکل میں شوہر کا ساتھ نبھایا۔وقت کے ساتھ خدا نے انہیں دو بیٹوں سے نوازا جن کی خاطر مجید نے اپنی محنت دگنی کر دی۔ وہ پندرہ پندرہ گھنٹے کام کرتا تاکہ اس کے بچے وہ زندگی نہ گزاریں جو اس نے گزاری تھی۔ اس نے اپنا واحد اثاثہ یعنی گھر بیچ کر ایک بیٹے کو ڈاکٹری پڑھائی اور دوسرے کو جمع پونجی دے کر بیرون ملک بھیجا۔ جب زندگی میں سکون کے دن قریب آئے تو چالیس سال تک دکھ سکھ بانٹنے والی رفیقہ حیات بچھڑ گئی۔ ساٹھ سال کی عمر میں اس جدائی نے اسے ایک زندہ لاش بنا دیا۔ ایک بیٹا شہر میں ڈاکٹر بن کر رہنے لگا اور دوسرا امریکہ میں جا بسا جو مہینے میں ایک بار رسمی طور پر فون کر لیتا تھا۔
مجید نے سوچا تھا کہ آخری ایام بیٹوں کے ساتھ سکون سے گزریں گے مگر ایک دن ڈاکٹر بیٹے نے اپنے 65 سالہ باپ کا سامان باندھنا شروع کر دیا اور اسے شہر سے دور ایک عمارت کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا۔ بیٹے نے سرد مہری سے بتایا کہ وہ اور اس کی بیوی آسٹریلیا جا رہے ہیں لہذا اب باپ کو یہاں ایک فلاحی مرکز یعنی اولڈ ہوم میں رہنا ہوگا۔ باپ کا کانپتا ہوا ہاتھ اور اس کی ممتا سے بھری یادیں ایک لمحے میں دھواں ہو گئیں۔ وہ سمجھ گیا کہ جس اولاد کے لیے اس نے اپنی جوانی اور گھر بار قربان کر دیا اب ان کی زندگی میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
اس مرکز میں گزرنے والے ایام نہایت کٹھن تھے۔ جہاں اسے اپنی بیوی کی کمی شدت سے محسوس ہوتی تھی وہاں بیٹوں کی بے حسی اسے اندر سے ختم کر رہی تھی۔ آخری وقت قریب آیا تو اس نے ایک وصیت لکھی جس میں اپنے بیٹوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ جب وہ اس کی میت لینے آئیں تو اسے ایک بار سینے سے ضرور لگا لیں کیونکہ اس کی روح بہت تھک چکی ہے۔ اس نے تاکید کی کہ اس کی موت پر نام و نمود کے لیے کھانے نہ کھلائے جائیں اور نہ ہی اس کی تصویریں گھر میں سجائی جائیں۔ اس نے اپنے پاس موجود کل جمع پونجی یعنی ایک سو پانچ روپے اپنی پوتی کے لیے چھوڑے اور حسرت بھری آواز میں کہا کہ کاش وہ بے اولاد ہوتا تو کم از کم اپنی زندگی کے آخری لمحات اپنے ہی گھر کی دہلیز پر گزارتا نہ کہ اس مسافر خانے میں۔ یہ کہتے ہی وہ بوڑھا باپ اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔
محترم قارئین محتاجی ایک ایسی سزا ہے جس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ اللہ پاک کسی بھی ماں باپ کو بڑھاپے میں ایسی تنہائی اور بے کسی نہ دکھائے۔ بزرگوں کی یہ دعا کتنی سچی ہے کہ اللہ ہمیں چلتے ہاتھ پاؤں اس دنیا سے اٹھائے تاکہ ہم کسی کے بوجھ نہ بنیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here