اسلام آباد (پاکستان نیوز)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے بقول امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا سامنا کرنے والے ایرانی عوام کے ساتھ غیر متزلزل حمایت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اردو میں جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں کہا کہ اس مبارک اور روحانی گھڑی میں وہ ایرانی حکومت اور عوام کی جانب سے پاکستانی بھائیوں کی اس پرخلوص حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو صیہونی ریاست اور امریکہ کے جارحانہ اقدامات کے خلاف سامنے آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اللہ تعالی کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بیان مشرق وسطیٰ میں جاری اس حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس کا آغاز 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا، جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت واقع ہوئی تھی۔ جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات اور اڈوں کو اپنے جوابی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ دفتر خارجہ نے ان موجودہ حالات میں پاکستان کے کردار کو ایک پل کے طور پر قرار دیا ہے جو فریقین کے درمیان مفاہمت کی کوششیں کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے مطابقپاکستان نے سعودی عرب پر ایران کے شدید حملوں کو روکنے کے لیے گزشتہ سال ریاض کے ساتھ کیے گئے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو بھی فعال کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جنگ کے آغاز سے ہی مختلف ممالک کی اہم شخصیات کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مسلسل کشیدگی میں کمی پر زور دے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 12 مارچ کو سعودی عرب کا مختصر دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پاکستان نے ایک نہایت متوازن موقف اختیار کر رکھا ہے جہاں اس نے ایران پر غیر ضروری حملوں کی مذمت کی اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کی طرف فوری واپسی پر زور دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان نے سلامتی کونسل میں بحرین کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کی حمایت کی تھی جس میں ایران کے جوابی حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے فوجی کشیدگی کے خاتمے کے لیے روس کی پیش کردہ قرارداد کے حق میں بھی ووٹ دیا تھا، تاہم امریکہ نے اسے ویٹو کر دیا۔










